حب میں دوران ڈکیتی مزاحمت پر ملزمان نے پولیس آفیسر کے بیٹے کو قتل کردیا
حب (نمائندہ انتخاب) حب بدامنی کے واقعات تھم نہ سکے ،پولیس افسران ٹھنڈے کمروں سے باہر نکلنے کو تیار نہیں چور ڈاکو قاتل دندناتے پھر رہے ہیں مسلح ڈاکوﺅں نے مزاحمت پر فائرنگ کر کے پولیس آفیسر کے بیٹے کو قتل کردیا ملزمان فرار ہو گئے مقتول کے عزیز واقارب اور اہل علاقہ سراپااحتجاج مغربی بائی پاس زیر وپوائنٹ پر احتجاجاً کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ بلاک کر دی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ہزاروں مسافر گاڑیوں میں محصو ر ہو کر رہ گئے پولیس کی جانب سے حسب روایت مظاہرین کو طفل تسلی دیکر احتجاج ختم کرانے کی کوشش ناکام تفصیلات کے مطابق پولیس آفیسر سب انسپکٹر عبدالغفور رند کا25سالہ بیٹا شعیب اپنے دوستوں کے ہمراہ پکنک منانے ساکران کے علاقہ مائنر نمبر 4پر گیا ہوا تھا کہ مسلح افراد نے فائرنگ کرکے نوجوان کو قتل کردیا جس پر مقتول کے لواحقین اور دیگر اہل علاقہ وشہری سراپا احتجاج بن گئے اور حب مغربی بائی پاس زیروپوائنٹ کے مقام پر دھر نا دیکر اور قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کر کے قومی شاہراہ کو بلاک کردیا مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقتول شعیب رند کو لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر مسلح ڈاکوﺅں نے فائرنگ کر کے قتل کیا ہے تاہم واقعہ کے حوالے سے پولیس افسران کہتے ہیں کہ واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہے قومی شاہراہ پر احتجاج کی وجہ سے اتوار کی شب کراچی سے کوئٹہ مکران اور اندرون بلوچستان جانے والی مسافر بردار مال بردار گاڑیوں سمیت دیگر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ا±ن میں سوار ہزاروں مسافر رات گئے تک محصور ہو کر رہ گئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ساکران سمیت حب کے چاروں تھانوں کی حدود میں عوام غیر محفوظ ہیں چوع ڈاکو واداتیں کرتے دندناتے پھر رہے ہیں جس میں پولیس افسران کی فوج ظفر موج موجود ہے جبکہ ایس پی حب سمیت دیگر پولیس صرف اپنے دفتروں کے ٹھنڈے کمروں اور مال کمانے کے چکر میں مصروف نظر آتے ہیں پولیس کو عوام اور تاجروں کے جان ومال کے تحفظ میں دلچسپی کے بجائے مال کمانے میں زیادہ دلچسپی ہے یہی وجہ ہے گزشتہ کئی مہینوں سے ڈکیت گروہ نے حب کے شہریوں سے کروڑوں روپے کی لوٹ مار کی ہے علاقے کا امن تباہ ہو چکا ے لیکن نہ تو بالا حکام کوئی نوٹس لے رہے ہیں اور نہ ہی تعینات پولیس افسران ٹس سے مس ہو رہے ہیں۔


