گڈانی کی سمندری لہروں پر بہتا بحری جہاز ماہی گیروں کی بستی کے قریب آنے لگا، لوگوں میں خوف و ہراس

حب (رپورٹ: عزیز لاسی) گڈانی ایک اور مبینہ مشتبہ جہاز ساحل کے قریب پہنچ گیا جہاز کو گہرے پانی سے ساحل کی طرف کھینچ کر لانے والی ٹگ کے لنگر ٹوٹنے کے سبب ناکارہ بحری جہاز سمندری لہروں کے رحم وکرم پر ماہی گیر بستی کے قریب آنے لگاجہاز سمندر برد غرقاب ہونے کے خدشات، مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کی فضاءپیدا ہوگئی لاوارث حالت میں سمندر میں موجود بحری جہاز پر لوٹ مار کرنے والوں نے ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیئے مشتبہ بحری جہاز کسٹم سمیت سمندری محافظ اداروں کی کلیئرنس کے بغیر کسطرح گڈانی کی سمندری حدود میں داخل ہوا کوئی بھی آفیسر اور اہلکار لب کشائی کرنے کو تیار نہیں جہاز میں کیا لوڈ ہے مختلف قیاص آرائیاں اور خدشات جنم لینے لگے کافی دن گزرنے کے باوجود سرکاری ادارے خاموش ہیں اس حوالے سے اطلاع ملنے پر ٹیم انتخاب نے گزشتہ روز گڈانی کے ساحل اور پکنک پوائنٹ وماہی گیر بستی سے کچھ فاصلے پر سمندری لہروں کے رحم وکرم پر موجود ایک بحری جہاز کو دیکھا اور مقامی لوگوں کے مطابق مذکورہ جہاز پچھلے کئی دنوں سے شپ بریکنگ یارڈ اور ماہی گیر بستی کے درمیانی علاقے میں لمحہ بہ لمحہ اپنا رخ اور زاویئے بدل رہا ہے اور اسوقت مذکورہ بحری جہاز بغیر کسی سہارے کے سمند ر میں موجود ہے ذرائع بتاتے ہیں کہ مذکورہ جہاز کو بروکر سودا لگانے کےلئے گڈانی لارہے تھے تاہم کسی شپ بریکر سے سودا طے نہ ہونے پر اُسے گہرے سمندر میں روکے رکھا گیا تاہم سمندری طوفان بیپر جوائے کی وجہ سے بپھری لہروں نے مذکورہ بحری جہاز کو ساحل تک کھینچ کر پہنچانے والی ٹگ کے لنگر اور رسے بھی ٹوٹ گئے ذرائع بتاتے ہیں کہ معاملے کے حوالے سے سمندری حدود کے محافظ اداروں کے علم میں یہ بات جب آئی تو ایک جوائنٹ کمیٹی نے معاملے کو کسٹم کے سپرد کردیا ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ جہاز کو کھینچ کر لانے والی ٹگ کو تحویل میں لینے کے بعد عملے کو بھی مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے جب ٹیم انتخاب نے گڈانی کسٹم ہاﺅس پہنچ کر شپ بریکنگ کے معاملا ت کی نگرانی کرنے والے شعبہ کے ایک آفیسر سے بات کی تو انھوں نے معاملے سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے انکے ایک بالا آفیسر کچھ بتا سکتے ہیں جو کہ حالیہ دنوں فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے سعودی عرب میں موجود ہیں اور دیگر بالا افسران جون کی کلو زنگ کی وجہ سے گوادر گئے ہوئے ہیں مزید برآں مذکورہ معاملے کے بارے میں انوائر مینٹل ڈیپارٹمنٹ کے ایک آفیسر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مذکورہ بحری جہاز آئل ٹینکر اور ٹگ ٹائپ کا ہے اور وزن بھی عام آئل ٹینکر شپ سے کافی کم ہے اور اس پر جوائنٹ ٹیم کام کر رہی ہے اور تمام معاملات کسٹم کے حوالے کئے گئے ایک دوسرے ذرائع نے بتا یا کہ مذکورہ جہاز دبئی سے پاکستان فروخت کرنے کےلئے لایا جارہا تھا تاہم توجہ طلب بات یہ ہے کہ مذکورہ جہاز جب پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہورہا تھا تو اُسوقت اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی گئی اور گڈانی کے قریب پہنچ کر سمندری لہروں کی وجہ سے کھینچنے والی ٹگ سے باندھے گئے رسے اور لنگر بھی ٹوٹ گئے اور بحری جہاز جس میں کیا لوڈ ہے کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں اور قیاص آرائیاں کی جارہی ہیں کو روکنے اور ُسے سہارا دینے کے بجائے سمندری لہروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا جو کہ اب آہستہ آہستہ گڈانی پکنک پوائنٹ اور ماہی گیر بستی کے قریب لمحہ بہ لمحہ رخ بدلتا ہوا پہنچ رہا ہے جہاز کے حوالے سے یہ بھی خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ جہاز سمندر میں غرقاب ہو کر ڈوب بھی سکتا ہے اور اسکی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال اور رخ کی وجہ سے مقامی ماہی گیروں کے سمندر میں شکار کی غرض سے جانے کی صورت میں کسی حادثے کا سبب بن سکتا ہے ذرائع نے اس بات کا بھی انکشا ف کیا ہے کہ لاوارث حالت میں ہچکولے کھاتے بحری جہاز کے سامان کو لوٹنے کےلئے ایک گروہ سرگرم ہے اور رات کی تاریکی میں کشتیوں کے ذریعے جہاز کے قریب پہنچ کر سامان چور ی کیا جارہا ہے اور یہ معاملہ بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں