ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ صوبوں کے حوالے کرنے کا اقدام مزدور طبقے پر ظلم ہوگا، آل پاکستان لیبر فیڈریشن
کوئٹہ : آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر سلطان محمد خان نے کہا ہے کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ای او بی آئی کا سرمایہ مزدوروں کے خون پسینے کی کمائی ہے، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ صوبوں کے حوالے کرنے کا اقدام مزدور طبقے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مزدوروں کیسا تھ ظلم کے مترادف ہوگا۔ اس سے بلوچستان اورخیبر پختونخوا کے لاکھوں مزدوروں کے مفادات کو نقصان پہنچے گا، لہٰذا ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ای او بی آئی کی صوبوں کو منتقلی روکی جائے۔ ان اداروں کو وفاق کے پاس ہی رہنے دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ محنت کشوں کیلئے نئی لیبر پالیسی بنائی جائے ، لیبر قوانین کو اپ گریڈ کرنا ہوگا کیونکہ اب دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے لہذا سائبر سیف سپیس، فری لانسنگ، ورک فرام ہوم و دیگر معاملات سمیت آئی ٹی سے منسلک شعبوں میں کام کرنے والوں کے حقوق کو بھی تحفظ دیا جا ئے،وفاقی و صوبائی حکومتیںمزدوروں کی سوشل پروٹیکشن یقینی بنائیں، مزدوروں کوسوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ کیا جائے،مزدور کو سرکاری مقرر کردہ کم از کم تنخواہ دلائی جائے،مزدوروں کے بچوں کو ٹیلنٹ سکالرشپ کا حصول یقینی بنایا جائے،محنت کش طبقے کی فلاح وبہبود کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتیں پریوینشن اینڈ پروٹیکشن اسٹرٹیجی پر کام کریں۔ آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر سلطان محمد خان نے کہا کہ مزدور مشین نہیں انسان ہے، جسے سکون بھی چاہیے لہذا 8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے آرام اور 8 گھنٹے گھر یلو زندگی کے دیگر معاملات مگر افسوس ہے کہ مزدوروں سے بہت زیادہ وقت کام لیا جاتا ہے جس سے ان کی زندگی متاثر ہورہی ہے،حکمرانوں نے ریاست، سیاست اور معیشت میں مزدور کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا، اسے پہچان نہیں دی، اسے تحفظ نہیں دیا آ ل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر سلطان محمد خان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاسی، معاشی مسائل کی وجہ سے انڈسٹری بند ہورہی ہے، صورتحال بہت خراب ہے، ایسے میں ضرورت ہے کہ ورکرز اور تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل سہہ فریقی کانفرنس بلائی جائے یہ محنت کش طبقے کاحق ہے اور حکومت اس کی پابند ہے، مگر کئی برسوں سے یہ کانفرنس نہیں ہوئی، مزدور کا کوئی پرسان حال نہیں ہے،مزدوروں کے حوالے سے بہتر قانون سازی اور ان پر صحیح معنوں میں عملدرآمد سے ان کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں ان کی زندگی کو بدلا جا سکتا ہے،محنت کشوں کو خوشحال بنا کر ہی پاکستان کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔


