مصر کی فلسطین میں یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں قرآن پاک کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پر حملوں کی مذمت

قاہرہ (صباح نیوز)مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الاز ھر الشریف نے فلسطین میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے نابلس کے جنوب میں واقع عوریف میں قرآن مجید کے نسخوں کو پھاڑنے اور جلانے اور مغربی کنارے کے متعدد فلسطینی دیہاتوں میں فلسطینی شہریوں پر حملہ کرنے اور ان کی املاک چوری کرنے کی مذمت کی ہے۔جامعہ الاز ھر نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی ریاست اور اس کے جرائم کا تسلسل عالمی برادری کی آنکھوں اور کانوں کے سامنے جاری ہے۔ عالمی برادری اسرائیل کو فلسطینیوں کا ناحق خون بہانے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے غیر موثر اقدامات کی وجہ سے یہودیوں کو مسلمانوں کی مساجد اور قرآن پاک پر دست درازی کا موقع دیا ہے۔انہوں نے قرآن کے نسخوں کو چاق کرے کے مذموم اور اشتعال انگیز اقدام کو بھی انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ جامعہ الازھر بے بین الاقوامی قانون اور ان تمام اصولوں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی پر اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔جامعہ الازھر نے زور دے کر کہا کہ "اب وقت آگیا ہے کہ قابض ریاست کے حوالے سے ایک سنجیدہ اور متفقہ عرب اور اسلامی موقف اختیار کیا جائے، جس نے فلسطینیوں کے خلاف انتہائی گھنانے جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں