قائد اعظم یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کو ہولی کھیلنے پر مجبور کرنا پاکستان سے غداری ہے، تنظیم اسلامی

کوئٹہ (آن لائن) قائم مقام امیر تنظیم اسلامی اعجاز لطیف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلمان طلبہ کو ہولی کھیلنے پر مجبور کرنا اسلام اور پاکستان سے غداری ہے انہوں نے کہا کہ ایک نہایت منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران ملک بھر کی جامعات میں تسلسل کے ساتھ ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں غیر مسلموں کے شعائر کو مسلمان طلبہ پر مسلط کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم اقلیتوں کی مکمل مذہبی آزادی کے حق میں ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کو غیر اسلامی سرگرمیوں میں زبردستی شامل کیا جائے۔ چند روز قبل قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ہندوو¿ں کے تہوار ”ہولی“ کا انعقاد جس میں سرعام رقص و سرور اور انتہائی قابل اعتراض افعال کا کھلم کھلا ارتکاب کیا گیا درحقیقت اسلام سے کھلی بغاوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف نوجوانوں کے اسلامی تشخص، نظریات اور افکار کے لیے انتہائی مہلک ہیں بلکہ قرآن و سنت جو ملک کا سپریم لاءہے اور آئین پاکستان کی روح ہے اُس سے متصادم ہیں۔ پھر یہ کہ ملکی قوانین اور نظریہ پاکستان کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن جس میں ملک بھر کی جامعات کو ایسی سرگرمیوں کے انعقاد سے گریز کرنے کا کہا گیا اُس پر سپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے ماحولیات کا ردِ عمل خلاف اسلام ہے جو انتہائی شرمناک بات ہے۔ مملکتِ خداداد پاکستان کے ایوانِ زیریں کے محافظ کو درحقیقت ملک کی نظریاتی اور آئینی اساس کا بھی محافظ ہونا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس شرمناک واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ایسی بیہودہ سرگرمیوں کے پشت پناہوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔ حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کی جامعات کو غیر مسلموں کے مذہبی شعائر اور رسومات کے پرچار کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا حقیقت یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصوارت کے مطابق مرتب کرنے کے لیے تمام سہولتیں بہم پہنچائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں