حکومتی قانون سازی کیخلاف یوم الغضب اور مزاحمت منانے کا اعلان، اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ
تل ابیب (این این آئی) اسرائیل میں عدالتی نظام میں نام نہاد اصلاحات اور ججوں کے اختیارات کم کرنے سے متعلق حکومتی قانون سازی کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنماﺅں نے آج منگل کو یوم الغضب اور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی پولیس نے ملک بھرمیں یوم مزاحمت کے موقعے پر ہائی الرٹ کیا ہے۔ تمام اہم مقامات پر پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور بن گوریون ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کردیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ یوم مزاحمت کے موقعے پر پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کوبی شبتائی نے مظاہرین کو احتجاج کرنے کی اجازت دینے کی ہدایات دی ہیں، لیکن ساتھ ہی ہر اس مظاہرے کو سختی سے کچلنے کی بھی ہدایت کی ہے جس کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایسے مظاہرے جو مرکزی شاہراں کوبند کریں اور بندرگاہوں میں رخنہ اندازی کریں انہیں کچل دیا جائے گا۔ انہوں نے سنٹرل ڈسٹرکٹ پولیس سے کہا کہ وہ گذشتہ ہفتے کے بین گوریون ہوائی اڈے پر ہونے والے پرتشدد مظاہروں کودہرانے کی اجازت نہ دیں جس کی وجہ سے سڑکیں بند ہوئیں اور پروازوں میں تاخیر ہوئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے پر سکیورٹی حکام کو ایسے لوگوں کو ٹرمینل 3 سے ہٹانا چاہیے جن کے پاس سفری ٹکٹ نہیں ہیں، ٹرمینل 3 کے سامنے مظاہرین کے لیے جگہ کا تعین کریں اور انہیں دوسرے علاقوں تک پھیلانے سے روکیں۔ پولیس نے خبردار کیا کہ جو مظاہرین سڑکوں کو بلاک کرنے یا دیگر گڑبڑ میں ملوث ہو کر احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں حراست میں لیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق پولیس کا ارادہ ہے کہ ملک بھر میں ٹریفک میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا فوری جواب دیا جائے، جیسا کہ ہفتے کے روز تل ابیب میں ایک مظاہرے کے دوران ہوا جب کچھ مظاہرین ہائی وے پر اترے اور اسے دونوں سمتوں سے بند کر دیا۔دریں اثنا حکومت کے قانونی مشیر غالی بہراو میارہ نے بغاوت کے منصوبے کے خلاف مظاہروں کے دوران قانون کے نفاذ سے متعلق پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کے دبا کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے ان کی پالیسی "متوازن اور قانون پر مبنی ہے۔” ان کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ مشیر میارہ نیتن یاہو کی جانب سے انہیں برطرف کرنے کی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہیں اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔دوسری جانب حکومت کے منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے رہ نماں نے خبردار کیا کہ "حکومت، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر کے لیے پولیس کی کارروائی منافقانہ ہے۔ ” انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ پولیس کی دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے بلکہ حکومت کے بغاوت کے منصوبے کے خلاف اپنی مخالفت کو تیز کریں گے۔ منگل کے یوم مزاحمت پر عوامی حمایت کی طاقت دکھائیں گے۔


