جمعیت یا ن لیگ سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، ڈاکٹر مالک

کوئٹہ (یو این اے) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاہے کہ آئندہ انتخابات میں پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار رکھنا مشکل لگ رہا ہے، بلوچستان کو پانچ سال میں جو نقصان ہواہے وہ ناقابل تلافی ہے تمام نظام ٹوٹ گیا ہے، بے شمار مشکلات کاسامناہے نوکریاں فروخت ہورہی ہے احتساب کا عمل نہیں ،پارلیمان ربڑ اسٹیمپ بن گئی ہے، نیشنل پارٹی نے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے جوبااختیار ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ ہے، اس حوالے مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں جب ہم اسلام آباد گئے تو مریم نواز سے بلوچستان بالخصوص پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، مولانا فضل الرحمن سے ملاقات ہوئی، حال ہی میں سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ یا انتخابات کے بعد اتحاد سے متعلق امور طے کریگی، جمعیت علماءاسلام یا مسلم لیگ (ن) یا کسی دوسری جماعت سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد سے متعلق کوئی ڈائریکٹ بات نہیں ہوئی، بلکہ کمیٹی بات چیت کو آگے بڑھائے گی، جنہیں مکمل اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی کمیٹی حال ہی میں بنی ہے، جس میں میر کبیر محمد شہی، جان محمد بلیدی، رحمت صالح بلوچ اور خیر بخش شامل ہیں جو مختلف جماعتوں سے ملاقاتیں کرینگی ،انہوں نے کہاکہ انتخابات ہورہے ہیں سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو یا نہ ہوں پی ڈی ایم نہیں رہے گادو تین سال سے جو ہورہا تھا، اب ہر جماعت اپنامفاد دیکھے گی، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے نہیں لگتا کہ اتحاد انتخابات کے حوالے سے برقرار رہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو پانچ سال میں جو نقصان ہواہے وہ ناقابل تلافی ہے تمام نظام ٹوٹ گیاہے ،بے شمار مشکلات کاسامناہے نوکریاں فروخت ہورہی ہے احتساب کا عمل نہیں ،پارلیمان ربڑ اسٹیمپ بن گیاہے ،حقیقی مسائل پر اگر ایک دوسرے کے نزدیک آجائیں توشاید بلوچستان کے مستقبل کیلئے کچھ کرسکے ہمارا بنیادی نقطہ اسٹیبلشمنٹ سے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کرے وہ جس کو اپنا ووٹ دیگی ان کا احترام کیاجائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں