مقتدر قوتیں وڈھ میں ڈیتھ اسکواڈ کی ناز برداری اور فنڈنگ کررہی ہیں، بلوچستان نیشنل پارٹی

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے ممبر، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری اور ضلعی کابینہ نے اپنے ایک بیان میں وڈھ کی کشیدہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے ہم ریاستی اداروں کو وڈھ کے حالات سے متعلق اپنے خدشات اور تحفظات سے آگاہ کررہے تھے، اس ضمن میں ہم نے پہیہ جام ہڑتال، احتجاجی ریلی اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کرکے تخریب کار گروہ کے عزائم کو آشکار کرنے کی مسلسل کوشش کی مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ کل وڈھ میں تخریب کار ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے شدید فائرنگ کرکے شہر میں خوف و ہراس پھیلایا گیا، بازار اور دکانیں بند ہوگئیں جس سے عوام میں تشویش اور پریشانی کی لہر دوڑ گئی۔ بی این پی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے شاہراہوں کو بند کیا مگر سردار اختر مینگل کے کہنے پر فورا شاہراہیں کھول دی گئیں تاکہ عوام کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کئی دہائیوں سے مخدوش ہے۔ بلوچستان کی حق تلفی اور یہاں کے ساحل اور وسائل کی لوٹ مار پر ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، جس کی پاداش میں ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم ایک مرتبہ پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم عوامی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جس کا ثبوت صوبائی اور وفاقی اسمبلی میں ہماری پارٹی کے قائد سمیت ہمارے نمائندوں کی موجودگی ہے۔ بی این پی کا موقف اصولی اور حق پر مبنی ہے جس کو بلوچستانی عوام کی اکثریت کی تائید و حمایت حاصل ہے وڈھ میں موجود ڈیتھ اسکواڈ کی اصلیت اور حقیقت سے دنیا واقف ہے، جس کو نادیدہ قوتوں کی سرپرستی حاصل ہے اور اس حقیقت سے چشم پوشی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی سورج کو دو انگلیوں سے چھپانے کی کوشش کرے، ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ بندوق اور طاقت کے بل پر حل نہیں ہوسکتا، اس کے لیے گفت و شنید اور ٹیبل ٹاک کا راستہ اپنایا جائے، اس ضمن میں ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ بظاہر تو ہم حکومت کے اتحادی ہیں لیکن حکومت کے پاس کتنے اختیارات ہیں یہ بھی دنیا جانتی ہے، اصل اختیار جن قوتوں کے پاس ہے وہ ڈیتھ اسکواڈ کی ناز برداری کرنے اور انہیں فری ہینڈ دینے کے علاوہ فنڈز بھی مہیا کررہی ہیں ہمارے ماتھے پر مذہبی دہشت گرد گروہوں کو بنانے اور ان کو پالنے میں کا داغ لگا ہوا ہے اور پوری دنیا میں ہم دہشت گرد پیدا کرنے میں بدنام ہیں اب وقت آچکا ہے کہ ہم اس بدنامی کے داغ کو اپنے ماتھے سے مٹائے۔ ایک طرف ہم اسلامی ایٹمی طاقت کہلانے پر اتراتے ہیں اور دوسری طرف اپنے اندرونی معاملات کو سلجھانے میں مکمل ناکام ہیں۔ ہمارے پالیسی ساز ادارے کب تک طاقت کے استعمال کی پالیسیاں بناتے رہیں گے؟ اپنے ہی عوام پر طاقت کے استعمال نتیجہ کبھی بھی اچھا برآمد نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہم ریاست اور ان کے پالیسی سازوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عقل و شعور اور انصاف کی بنیادوں پر پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے دہشت گردوں اور ڈیتھ سکواڈ کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیں اور ملک کو ان قاتل اور دہشت گرد گروہوں سے مکمل پاک کر دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں