الیکشن کے حوالے سے چار دفعہ دستخط شدہ فیصلے ہوئے،عمران خان انتخابات چاہتے ہی نہیں تھے،پرویزخٹک
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے سربراہ اورسابق وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے چار دفعہ دستخط شدہ فیصلے ہوئے لیکن چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن چاہتا ہی نہیں تھا،جمہوریت نہیں چاہتا تھا اور ملک میں انتشار لانا چاہتا تھا۔ 9مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلا ف جو بھی قانون ہے اس کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں ،فوجی عدالتوں میں کیس چلنے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے، سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کیس فوجی عدالتوں میں چلنے چاہئیں یا نہیں۔ میرا پاکستانیوں سے سوال ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا نظریہ کیا تھا، مجھے کوئی سمجھا دے نظریہ تھا کیا؟ نظریہ تھا ہی نہیں، صرف کہانیاں تھیں جو ہم سنتے تھے۔ نظریہ منشورہوتا ہے اور پھر اس منشور پر عمل ہوتاہے،منشور پر عمل ہی نہیں ہوا تونظریہ کدھر گیا۔ان خیالات کااظہار پرویز خان خٹک نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ میں الیکشن کے حالات نہیں دیکھ رہا ہوں کیونکہ الیکشن مہم نہیں چل رہی،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ پارٹیاں الیکشن مہم کے لئے کیوں نہیں نکل رہیں، سب گھر بیٹھے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کچھ اورفیصلہ کیاہے، ابھی تو جلسے شروع ہونے چاہئیں ، الیکشن مہم شروع ہونی چاہیے ، سب گھر بیٹھے ہیں اوراپنی گپیں ماررہے ہیں ، مجھے اس لئے شک ہورہا ہے کہ الیکشن نہیں ہو گا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں جتنے سینئر لوگ تھے ہمیں بے خبر رکھا گیا کہ ہم نے کدھر جانا ہے اور کیا کرناہے، بتاتے اورتھے کرتے اورتھے،جو کچھ ہواہم اس کے خلاف ہیں، ہم نہ اپنے اداروں سے لڑسکتے ہیں اور نہ لڑنا چاہتے ہیں، ہم ان کی عزت کرتے ہیں، میں توخود وزیر دفاع رہا ہوں۔ اگر چیئرمین پی ٹی آئی چارمواقع ضائع نہ کرتے توآج الیکشن ہوچکا ہوتا، میرے ہاتھ پر سب کچھ ہوا،میرئے سامنے ہوا، میں سب کو ڈیل کرتا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی الیکشن نہیں چاہتے تھے،9مئی کو ہمیں پتا چلا چیئرمین پی ٹی آئی کیوں الیکشن نہیں چاہتا تھا۔ پنجاب اور خیبراسمبلی کا کوئی رکن نہیں چاہتا تھا کہ اسمبلی توڑی جائے۔ اپنی حکومت بھی کوئی توڑتا ہے، اختیار بھی دے دو، ڈنڈے بھی دے دو، رسی بھی دے دو اوراپنے گلے میں ڈال دو، جو کچھ ہورہا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے۔ پی ٹی آئی کا کوئی رکن قومی اسمبلی سے نہیں نکلنا چاہتا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی فیصلے خود کرتا تھااورکسی سے صلاح مشورہ نہیں لیتا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی صلاح سنتا تھااوربات سنتا تھا لیکن اگلے دن دیکھتے توکوئی اورفیصلہ کررہا ہے۔اب بھی جولائی میں انتخابات ہوچکے ہوتے،عدالتیں بھی اس میں شامل تھیں میں بھی اس میں شامل تھا لیکن چیئرمین پی ٹی آئی کہتا تھا کہ اپریل میں انتخابات کرائو۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، میں سچی بات کرتا ہوں اورجھوٹے وعدے نہیں کرتا، جب کسی پر اعتماد ہو تو پھر وہ سب کچھ کرسکتے ہیں ، اگر بے اعتمادی ہو، جھوٹ بولے، اپنا کام نکالے اوراپنے دوستوں کا خیال نہ کریں تو پھر جوڑتوڑ نہیں ہوسکتی۔میں نے پارٹی اس لئے بنائی کہ مجھے سیاست میں 41سال ہو گئے ہیں میں نے سب کو دیکھا ہے، سب آتے ہیں منشور دیتے ہیں، بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور خواب دکھاتے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ حقیقت میں زمین پر کچھ بھی نہیں ہے، میں نے پانچ سال خود حکومت کی اورجووعدے کئے وہ پورے کئے، ہرقدم پرلوگوں کی آسانی کے لئے تعلیم، صحت اور پولیس کے محکموں میں اصلاحات کیں۔میںاپنے دوستوں اور الیکٹیبلز کے ساتھ مشورہ کیا کہ کیوں نہ ہم اپنا راستہ لیں اورعوام کی خود خدمت کریں۔پرویز خٹک نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے پارٹی بنائی تھی، وہی اس کو لیڈکرے گا، اس پر کوئی قبضہ کر ہی نہیں سکتا تھا اگر کوئی ایسا سوچتا تھاتواس کو غلط فہمی تھی۔ میرے ساتھ40سے45سابق اراکین اسمبلی ہیں اس کے علاوہ اور بھی آرہے ہیں اس لئے میں نے اپنی پارٹی کا نام پی ٹی آئی پارلیمنٹرین رکھا ہے، ہم پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،ہم وہ لوگ ہیں جو الیکشن چاہتے ہیں اور پارلیمنٹ میں جانا چاہتے ہیں۔میڈیا نے میری پارٹی میں شامل لوگوں کے بغیر تصدیق نام لینے شروع کردیئے ، جن لوگوں نے میری پارٹی میں شمولیت کی تردید کی ان میں صرف ایک آدمی ہے جو واپس گیا باقی ہمارے ساتھ تھے ہی نہیں۔ کچھ لوگوں کو میں پارٹی میں لانا نہیں چاہتا وہ گروپنگ کرتے ہیں اوران کی نیت خراب ہے، اگر اسد قیصر، شاہ فرمان، شہرام ترکئی، عاطف خان اور شوکت یوسفزئی آئیں گے بھی تومیں انہیں ساتھ نہیں رکھوں گا، باقی دو ہیں جو خودآجائیں گے اوروہ میرے ساتھ رابطے میں ہیں۔ شوکت یوسفزئی جو مرضی ٹویٹ کرے وہ شانگلہ میں میرے بغیر الیکشن لڑ ہی نہیں سکتا، میرے بغیر شوکت یوسفزئی شانگلہ سے الیکشن لڑکے دکھائے میں ثابت کروں گا کہ وہ میرے ساتھ نہیں آئے گا تو الیکشن نہیں جیت سکے گا۔ سارے صوبے میں اپنی پارٹی کو اٹھائوں گا جب پارٹی اٹھے گی تو لوگ خودبخود تبدیلی دیکھیں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی اپنی پارٹی ہے ہماری اپنی پارٹی ہے، ہم یہ موازنہ ضرور کریں گے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا ،کیا اور ہم نے کیا ،کیا۔9مئی کے واقعات کا کون ماسٹر مائنڈ ہے اس حوالے سے مجھے نہیں پتا لیکن ہمارے جتنے سینئر لوگ ہیں چاہے شاہ محمود قریشی ہیں، اسد عمر ہیں یا دیگر 8یا10سینئر لوگ تھے ہمیں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہمیں اس بات کا دکھ ہے، وہ الگ ٹیم تھی جو یہ کام کررہی تھی،ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا۔ ہم سمجھاتے تو عمران خان کہتے تھے ٹھیک ہے بے غم ہو جائو لیکن جب گھر جاتے تھے تو چیئرمین پی ٹی آئی کا صبح کوئی اوربیان آجاتا تھا۔ 9مئی کو اگر فوج عوام پر گولیاں چلاتی تو یہی لوگ چاہتے جو ہم نہیں چاہتے تھے اس لئے یہ ساری گیم ہوئی ،لوگوں کو سوچنا چاہیے انہیں بڑی چیزیں سمجھ آجائیں گی اوروہ توبہ کریں گے کہ یا اللہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا تھا، شکر الحمدُ اللہ ہماری فوج کو سمجھ آئی اورانہوں نے گولی نہیں چلائی، لوگ نہیں مرے اور یہ ملک بچ گیا، نہیں تو بہت بڑانتشار ہوتا۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہو سکتا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد اعظم خان لاپتہ نہ ہوںاورہوسکتا ہے وہ خود غائب ہو ں، اچھا عقلمند آدمی ہے اگراس نے کوئی فیصلہ کیا ہے توسوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا کیونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سب سے قریب ، سب سے بااعتماد اعظم خان تھے،حکومت تو وہ چلا رہا تھا باقیوں کو توپتا ہی نہیں تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نہیں پتا تھا،ساری بیوروکریسی وہ چلا رہا تھا، سارے فیصلے وہ کررہا تھا،ہم لوگوں کو سائیڈلائن کیا ہواتھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بادشاہ تھا انہوں نے اپنی مرضی چلائی جوآج ساری پی ٹی آئی کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ سائفر کے معاملہ پر ہونے والے کابینہ اجلاس میں ، میںنے شرکت نہیں کی تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کو اپنی سیاست یا ملک کے لئے اوپن کیا اب لوگ اسے دیکھ رہے ہیں کہ کس لئے کیا۔ میراتوایمان ہے کہ میں ساری دنیا سے اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں، قرضوں پر ملک چل رہا ہے اور ہم دکھاتے ہیں کہ ہم بڑے طاقتور ہیں، اس وقت دنیا میں ہماری حیثیت زیرو ہے۔ سائفر آتے رہتے ہیں کوئی سخت ہوتے ہیں اور کوئی نرم ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے خلاف سازش کرنا اتنا آسان بات نہیں ،پاکستان اتنا کمزور نہیں کہ اور دنیا آکرہمارے خلاف سازش کرے، ہم اس لئے ڈوبے ہوئے ہیں کہ ہم نے اپنے خلاف خودسازش کی، اس ملک میں سازشی اندر ہیں ، باہر والا کوئی ساز ش نہیں کرسکتا۔ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پائونڈ کا مقدمہ سب سے زیادہ سنجیدہ ہے، یہ رقم اٹھا کر کسی کے اکائونٹ میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، میں بھی نیب میں پیش ہوا ہوں اور میں نے ساری تفصیلات دیکھی ہیں، یہ اتنا ظلم ہے کہ پاکستان کا پیسہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بجائے کسی اور کے اکائونٹ میںچلا جائے، اس سے بڑاکچھ نہیں ہوسکتا۔ہمیں توبند لفافہ دکھایا گیا کہ یہ لانڈرنگ منی ہے اور یہ خاوند اور بیوی کے ہیں اور یہ پکڑے گئے ہیں اور پاکستان اور برطانیہ کا معاہدہ یہ ہے کہ جو پیسے پکڑے گئے ہیں وہ پاکستان کو واپس آئیںگے، ہمیں بتایا گیا کہ پیسے مل گئے ہیں ، ہم نے کہا ہمیں کیا اعتراض ہے کہ اگر چوری کا پیسہ حکومت کے پاس آتا ہے ہم نے خوشی خوشی قبول کیا لیکن بعد میں پتا چلا کہ ڈرامہ کچھ اورہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ حکومت بھی نہیں کرسکتی یہ فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ ہم اگست میں عوام میں جارہے ہیں اور ہم جلسے کریں گے اور دکھائیں گے کہ ہم اکیلے نہیں بلکہ عوام بھی ہمارے ساتھ ہے، سارے صوبے میں ہمارے ساتھ لوگ ہیں۔ایک سوال پر پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہونے والے سروے بہت بڑی گپ ہے، سوشل میڈیا پر چند لڑکے بیٹھے ہوتے ہیں جو سارادن گالی گلوچ کرتے ہیں۔ میڈیا جو سروے کرتا ہے وہ الگ بات ہے لیکن جو لوگ خود سروے کرتے ہیں یہ چیٹنگ ہے ، کسی کے پاس جاتے ہیں پی ٹی آئی کو ووٹ دو گے جو مخالف ہوتا ہے اس کا کاٹ دیتے ہیں ،لوگوں کو بیوقوف بنارہے ۔ خیبر پختونخوا میں نگران حکومت بالکل نیوٹرل نہیں ، ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ جب 8اگست کو وفاقی حکومت ختم ہو تو اس کے ساتھ صوبائی نگران وزراء کو بھی ختم کیا جائے کیونکہ سارے سیاسی ہیں ، مداخلت کرتے ہیں ۔


