پنجگور کے سیلاب متاثرین حکومتی امداد سے محروم، ملنے والے اربوں روپے ہڑپ لیے گئے

پنجگور (آن لائن) پنجگور میں بارشوں کی تباہکاریوں کو ایک سال گزر گیا لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کسی بھی متاثرین کو امداد نہ مل سکا وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو دو ارب روپے اور مختلف آفت زدہ ڈسٹرکٹ کو دو دو کروڑ روپے ملنے کے میڈیا رپورٹ سامنے آئے جس کی تصدیق صوبائی وزیر ضیا لانگو نے بھی کردی تھی لیکن بدقسمت پنجگور کے بارشوں سے متاثرین کو تاحال کچھ نہیں ملا صوبائی حکومت میں شامل صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ و چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر نصیر ناصر کمشنر مکران شبیر احمد مینگل و دیگر محکموں کے سیکرٹریز 20 جولائی 2022 کو ہنگامی صورت میں پنجگور آئے انہوں نے پنجگور کے متاثرہ علاقوں کا دورا کیا نقصانات کا جائزہ لیا اس تباہکاریوں کے دوران جانی نقصان پر مرنے والوں کو صوبائی حکومت نے دس دس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا جو بعد میں انہیں دیا گیا اس دوران مجموعی طور پر 18افراد کے کم و بیش جانی نقصان ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں گھر دیواریں پانی میں بہہ گئیں فصلیں کاریزات سڑکیں تباہ ہوگئے لیکن کسی مالی نقصانات کے متاثرین کو کچھ بھی امداد نہ مل سکا یہ بارشوں کی تباہی کا سلسلہ 3جولائی 2022سے شروع ہوکر 28جولائی تک وقفے وقفے جاری رہا جس نے پنجگور کی 30/35 سالہ ریکارڈ توڈ دیئے تھے ہزاروں غریب متاثرین مالی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ان کی دیواریں گھر آج بھی وہیں کے وہیں پڑے ہوئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں