پنجاب میں کسی جماعت سے انتخابی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کے حق میں نہیں،جاوید لطیف

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے نائب صدر اوروفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پارٹی میں میرے سمیت 99فیصد لوگوں کی رائے ہے کہ پنجاب میں کسی جماعت سے انتخابی اتحاد تودور کی بات سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کے بھی حق میں نہیں ہیں اور یہ پارٹی فیصلہ کرچکی ہے تاہم پارٹی کے قائد میاں محمد نوازشریف ہیں اور واپس آکر کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ ان کی صوابدید ہے مگرپارٹی میں اتفاق رائے ہے کہ ہم کوئی انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ (ن)لیگ کی انتخابی مہم نوازشریف چلائیں گے اوروہی ہماری پارٹی کے وزیر اعظم کے امیدوارہوں گے۔ ہماری پارٹی کے اندر وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف سمیت کوئی سنگل آواز بھی ایسی نہیں جو نوازشریف کے علاوہ کسی کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتی ہو اس لئے نوازشریف انشاء اللہ چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بن رہے ہیں۔ ان خیالات کااظہار میاں جاوید لطیف نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت بڑھانے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے اندر ایسی کوئی سوچ ہے ہی نہیں تھی اورنہ ہم تصور کرسکتے ہیں، ہم نے ساری عمر آئین اور قانون کی بالادستی کی جدوجہد کی ہے ہم کیسے تصور کرسکتے تھے ۔ہم بالکل90دن تک یا ایک ماہ الیکشن آگے لے کر نہیں جانا چاہتے، وقت سے قبل اسمبلی توڑنے کے نتیجہ میں الیکشن کمیشن کو گنجائش مل جائے گی کہ وہ 90دن میں الیکشن کروائے یا55دن میں الیکشن کروائے یا40دن مین الیکشن کروائے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آزاد ہے وہ چاہے تو45دن بعد الیکشن کروالے اوروہ چاہے تو85دن بعد الیکشن کروالے یہ اس کی صوابدیدہے اس میں حکومت وقت کا کوئی عمل دخل نہیں۔ دنیا میں الیکشن کمیشن آزاد ہوتے ہیں اوروہ آزادانہ الیکشن کرواتے ہیں۔ ہم نے 2002،2008اور2018کے انتخابات اپنی قیادت کے بغیر احتجاجاً لڑے اور2018کے انتخابات میں تمام تر جبر اور ظلم کے باوجود ہم پنجاب میں جیتے لیکن ہماری حکومت نہیں بنانے دی گئی۔ میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام کے حوالے سے نوازشریف پارٹی کی مشاورت سے جو فیصلہ کریں گے وہ ہرایک کو قبول کرنا پڑے گا۔ہم الیکشن سے بھاگنے والے نہیں بلکہ الیکشن مانگنے والے لوگ ہیں مگر یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ آپ ایک جماعت کے ہاتھ پائوں باندھ دیں اوردوسری وہ جماعت الیکشن کا مطالبہ کررہی ہو جس کی جرموں کی اتنی لمبی فہرست ہو، جس کی غیر ملکی فنڈنگ کا فیصلہ 11سال نہ ہوسکے، جس کے کرپشن کے فیصلے پینڈنگ ہوں اور فیصلے نہ دیئے جاسکتے ہوں، جس نے ایک سائفر لہرایا ہواورقوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہو اوراس بیوقوفی سے ریاست کو بہت سانقصان پہنچادیا ہو، اُس بندے کو کٹہرے میں لائے بغیر آپ الیکشن میں چلے جائیں اوراُس کی تمام غلطیوں اور تمام جرائم پر پردہ ڈل جائے یہ نہیں ہوسکتا۔ اس بات کا اظہار کرتے ہوئے اور اقرار کرتے ہوئے مجھے انتہائی دکھ ہے کہ ایک ریاست، ریاستی ادارے اور پوری قوم ستمبر کاانتظار کررہی ہو کہ اس کے بعد ریاست کے حق میں کوئی فیصلے آنا شروع ہوں گے یاانصاف ملنا شروع ہو گا، اس سے بڑی بدقسمتی اس قوم کی کوئی نہیں ہوسکتی اوریہ کسی بھی قوم کے لئے زہر قاتل ہے کہ اس کے اندر یہ مایوسی آجائے کہ ہمارے اداروں کے اندر سے انصاف ہمیں نہیں مل رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں