محکمہ تعلیم بلوچستان میں ملازمتوں پر اسٹے کیخلاف امیدواروں نے صوبے بھر میں احتجاج شروع کردیا

کوئٹہ (این این آئی) محکمہ تعلیم بلوچستان میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد پوسٹوں پر تحریری امتحان پاس کرنے والے ہزاروں امیدواروں نے ملازمتوں پر سٹے لینے کیخلاف صوبے بھر میں احتجاج شروع کردیا ،گزشتہ روز کوئٹہ ژوب اور خاران میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی اور اس فیصلے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے سامنے احتجاج کیساتھ ساتھ بلوچستان ہائیکورت کے سامنے بھی دھرنا دیں گے وادی کوئٹہ میں مظاہرے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی انکا کہنا تھا کہ ہماری سالوں کی محنت ضائع ہوگئی ہمارا مستقبل داو پر لگ گیا ہے سالوں کی محنت مٹی میں مل جانے کا خدشہ ہے لیکن ہم کسی صورت بھی اپنے حق سے دستبرادر نہیں ہوں گے ساڑھے آٹھ ہزار پوسٹوں کا مطلب ہے کہ اس سے ساڑھ آٹھ لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے ہمارے والدین بہن بھائی اور دیگر اہل خانہ نے کتنی امیدیں ہم سے وابستہ کرلی تھیںلیکن غیر متعلقہ لوگوں کی سازشوں کے باعث جب یہ عمل مکمل ہوچکا تھا اور رزلٹ اناونس ہونے والا تھا بلوچستان ہائیکورٹ نے ان پوسٹوں پر سٹے دیدیا جوکہ ہزاروں نوجوانوں کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے بلوچستان میں کوئی انڈسٹری نہیں اور نہ نجی شعبے مین روز گار کے مواقع ہیںبیروزگاری کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال مذید خراب ہوتی جارہی ہے اور نوجوان ریاست سے ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور اگر یہی روش رہی تو صورتحال مذید خراب ہوجائے گی لہٰذا ہم عدالت عالیہ سے مودبانہ گذارش کرتے ہیںکہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ تعلیم کی پوسٹوں پر سٹے ختم کرے تاکہ میرٹ پر تحریری امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کو انکا حق مل سکے۔دریںاثناءمردان خان مندوخیل محمد اسماعیل محمد امین وزیر خان کاکڑ رحیم داد اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان نے بے روزگار نوجوانوں کیلئے محکمہ تعلیم میں نو ہزار سے زائد آسامیاں مشتہر کی تھیں جس پر بلوچستان کے تین لاکھ نوجوانوں نے اپلائی کرکے ٹیسٹ دیا۔ لیکن بلوچستان اور بے روزگار نوجوانوں کے روزگار دشمن عناصر نے بلوچستان ہائی کورٹ سے اسٹے لے لیا جس کی وجہ سے نوجوانوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کا دورانیہ کچھ دنوں بعد ختم ہونے کو ہے اور اس دوران بلوچستان ہائی کورٹ میں اسٹے لینا بے روزگار نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا ثبوت ہے۔ میرٹ کی پامالی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے ڈویڑن بیچ کے ممبران معزز جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس سردار احمد حلیمی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کی خالی آسامیوں پر اسٹے آرڈر ختم کرکے آسامیوں کے رزلٹ ہنگامی بنیادوں پر آویزاں کریں تاکہ نوجوانوں کی محنت ضائع نہ ہو۔علاوہ ازیںایس بی کے پاس امیدواروں نے SBK رزلٹس کو روکنے اور بایزید خروٹی کے خلاف ایک پرامن احتجاجی ریلی نکالی، جو چیف چوک خاران سے ہوتی ہوی پریس کلب پہنچیںپریس کلب خاران میں SBK امیدواروں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا, حاجی سلیم اکبر ، عطا نصیر اور سید عبدالنبی شاہ نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگوں نے بھاری فیس جمع کرکے وقت نکال کر محنت ومشقت کے بعد اپنا ٹیسٹ پاس کیااب رزلٹ روکناہمارے حقوق پرڈاکہ ڈالنے کے مترادف اور بلوچستان کے بے روزگا نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے, بایزید خروٹی ایک عام آدمی ہے جو ایک افغانی مہاجر ہے جس کا لوکل بھی بلوچستان کا نہیں ہے وہ صرف ایک بلیک میلر ہے جس نے ایجوکیشن سمیت سارے محکموں کو یرغمال بنارکھاہے،ہم معزر عدلیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کے ہمیں انصاف فراہم کرے اور بایزید خروٹی کو واپس افغانستان بھیجنے کا حکم صادر فرمائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں