جے یو آئی پر حملہ۔ اسباب و عوامل
تحریر: انور ساجدی
صوبہ پختونخواءکے قبائلی ضلع باجوڑ کے ہیڈ کوارٹر ”خار“ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن پر خودکش حملہ بہت سارے لوگوں کےلئے حیران کن ہے کئی معتبرحلقوں کا خیال ہے کہ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے اور بیشتر طالبان جے یو آئی کے دونوں دھڑوں کے مدارس کے فارغ التحصیل ہیںان کا یہ بھی خیال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کا تعلق بھی مولانا فضل الرحمن کے مکتبہ فکر سے ہے لہٰذا ان کی طرف سے بھی مولانا اور ان کی جماعت محفوظ ہیں لیکن لوگ درپردہ حالات سے واقف نہیں ہیں مولانا واحد سیاسی و دینی لیڈر ہیں کہ ان پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ہیں اور ہر بار وہ بچ نکلے ہیں معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے داعش کا خراسانچیپٹر قائم ہوا ہے اس نے جے یو آئی ایف کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پاکستان میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مولانا کی جماعت جے یو آئی ہے داعش کے مطابق مولانا جمہوریت اور انتخابات پر یقین رکھتے ہیں ان میں حصہ لیتے ہیں وہ ایک ریاست پر بھی یقین رکھتے ہیں جو داعش کے ایک امت کے نظریہ خلاف ہے چنانچہ 2019ءمیں داعش خراسان نے فتویٰ جاری کیا کہ جے یو آئی کے رہنماﺅں خاص طور پر مذہبی اسکالرز پر حملے کئے جائیں اس فتوے کی روشنی میں خار میں خودکش حملہ کی ذمہ داری داعش خراسان پر ڈالی جارہی ہے یا اسی پر شک کا اظہار کیا جارہا ہے اس حملہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داعش نہ صرف افغانستان میں موجود ہے بلکہ وہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں ہولناک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے گزشتہ ماہ داعش نے بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں کا ایک علیحدہ چیپٹر بھی قائم کیا ہے۔
ایسے موقع پر کہ پاکستان میں رواں سال یا آئندہ سال کسی وقت عام انتخابات متوقع ہیں جے یو آئی کے جلسہ کو ٹارگٹ بنانا اس بات کا عندیہ ہے کہ اگر الیکشن ہوئے تو یہ خونی ہونگے یا انتہا پسندتنظیمیں انہیں خوفناک اور خونی بنانے کی کوشش ضرور کریں گی 2013ءاور 2018ءکے انتخابات میں اے این پی اور بی این پی دہشتگردی کا خاص نشانہ تھے لیکن اس مرتبہ خونی حملوں کا آغاز جے یو آئی پر کیا گیا ہے سوچنے کی بات ہے کہ اگر جے یو آئی محفوظ نہیں تو باقی جماعتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
یہ تو معلوم نہیں کہ جے یو آئی کو واقعی میںداعش خراسان نے ٹارگٹ کیا ہے یا پس پردہ دیگر پراسرار قوتیں ملوث ہیں بعض مبصرین نے اشارہ دیا ہے کہ خار حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب چینی نائب وزیراعظم سی پیک کی دس سالہ تقاریب میں شرکت کےلئے اسلام آباد میں موجود تھے یہ خیال آرائی بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ ان قوتوں نے کیا ہے جو چین مخالف ہیں اور نہیں چاہتیں کہ چین پاکستان کے معاملات میں زیادہ ملوث ہو شدید محب وطن عناصر کا قیاس ہے کہ جو لوگ پہلے سے سی پیک کے خلاف تھے حملہ میں ان کا ہاتھ ہے لیکن یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جب تک تحقیقات نہیں ہوگی اور یہ کھوج نہیں لگایا جائے گا کہ حملہ کے ذمہ دار کون ہیں تو ایسی قیاس آرائیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ اگر اس طرح کے حملے جاری رہے اور جے یو آئی کے بعد دیگر جماعتوں اور سیاسی اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا تو یقینی طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ حملوں کے ذمہ دار ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد وقت پر ممکن نہ ہو اسی طرح بعض سرکاری حلقوں نے عمران خان کے اس اقدام کو ہدف تنقید بنایا ہے جس کے تحت ٹی ٹی پی سے معاہدہ کرکے اس کے سینکڑوں یاہزاروں جنگجوﺅں کو واپس آنے کی اجازت دی گئی ا س عمل میں بڑا کردار پشاور کے سابق کور کمانڈر سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ادا کیا تھا فیض حمید کے اس عمل کو عمران خان سے جوڑا جارہا ہے کیونکہ عمران خان اس وقت وزیراعظم تھے بادی نظر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ دہشتگردی کی جو نئی لہراٹھی ہے اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں تشویش کی بات یہ ہے کہ ممکنہ آئندہ حملوں کا نشانہ پی ٹی ایم اور محسن داوڑ کی جماعت ہوسکتی ہیں جن کا اثرورسوخ سابق فاٹا کے حساس علاقوں میں ہے اور ٹی ٹی پی کے جنگجو بھی اسی علاقے میں موجود ہیںیہ تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ داعش یا دیگر انتہا پسند تنظیمیں انتخابی مہم کے دوران کن جماعتوں کو نشانہ بنائیں گی لیکن لبرل سیاسی جماعتیں ضرور نشانہ بنیں گی جن میں پیپلز پارٹی، اے این پی ، بی این پی وغیرہ شامل ہیں۔
اب جبکہ اسمبلیوں کی تحلیل اور ن لیگ حکومت کی برخاستگی میں صرف 10 دن رہ گئے ہیں تو کئی طرح کے خدشات نظر آتے ہیں مثال کے طور پر نگران حکومت جو بھی ہوگی وہ بہت کمزور ہوگی اس لئے اس کے دور میں دہشتگردی بڑھنے کا خطرہ ہوگا اگر انتخابی مہم کے دوران حملے ہوئے اور گشت و خون کا بازار گرم ہوا تو 90 میں انتخابات ممکن نہ ہونگے اگر ایک مرتبہ آئینی مدت گزر گئی تو پھر نگران حکومت کو طول مل سکتی ہے جیسے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود پنجاب اور پختونخواءکی حکومتیں آئین سے انحراف کرکے ابھی تک قائم ہیں جبکہ انہیں نگران حکومت کی حیثیت بھی حاصل رہے گی اگرچہ پی ڈی ایم کی گماشتہ حکومت اہم ترین بل منظور نہ کرواسکی جس کے تحت تحریک انصاف پر پابندی لگوانا مقصود تھا لیکن نگران حکومت کے دور میں آئین سے ماوریٰ اقدامات اٹھائے جانے کا خدشہ ہے اسی دور میں دہشتگردی کے مقدمات ٹھوک کے بھاﺅ میں چلیں گے اور کوئی شنوائی نہیں ہوگی نگران حکومت کے دور میں اگر ماورائے آئین اقدامات ہوئے تو واحد ادارہ سپریم کورٹ ہوگا جہاں سے ان اقدامات کا تدارک ممکن ہے ن لیگی حکومت نے جاتے جاتے جو”ڈریکونین“ قوانین منظور کئے اس کے تحت ملک میں دائمی سنسر شپ نافذ ہوگی اور میڈیا کےلئے ممکن نہ ہوگا کہ وہ حالات کی صحیح تصویر کشی کرسکے اس وقت بھی صورتحال یہ ہے کہ دو رہنماﺅں کا نام میڈیا پر آنا ممنوعہ ہے اس غیر جمہوری روایت کا آغاز بانی متحدہ الطاف حسین کے نام سے شروع ہوا تھا اس کے بعد میڈیا کو حکم دیا گیا کہ وہ ن لیگ کے سپریم لیڈر نوازشریف کا نام نشر اور شائع نہ کرے تازہ حکم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے بارے میں ہے افسوس کہ ن لیگ خود غیر جمہوری روایات کی پامال کرنے کی وجہ بنی جو خود کافی عرصہ تک نشانہ بنی رہی پیر کے اخبارات میں ایک ایسا اشتہار شائع ہوا جس کے ایک کونے پر چینی صدر شی اس کے وزیراعظم جبکہ دوسرے کونے پر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف حافظ صاحب کی تصویر دی گئی ہے حالانکہ حافظ ابھی تک وزیراعظم بنے نہیں ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے اصل اور حقیقی قائد آرمی چیف ہیں جو حالیہ اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں وہ اس بات کے غماز ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے اور منظم ادارے کو سیاستدانوں پر کامل بھروسہ نہیں ہے اس کا دراصل خیال یہ ہے کہ پاکستان کو ڈیفالٹ تک سیاستدانوں یا سیاسی حکومتوں نے پہنچایا ہے لہٰذا ملک کا بیڑہ پار کرنے کے اقدامات خود ہی کرنے پڑیں گے سیاسی حکومتوں پر انحصار نہیں کیا جائے گا گوکہ اس سلسلے میں 1973ءکا آئین رکاوٹ ہے لیکن لگتا ہے کہ کوئی درمیانی راہ نکالی جائے گی تاکہ ملک کے بگڑے حالات کو سدھار کی طرف لے جایا جاسکے برملا کہا جاتا ہے کہ خلیجی ممالک اور چین نے جو تعاون کیا ہے یہ آرمی چیف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ورنہ عمران خان اور پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ بچہ حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی چنانچہ آئندہ انتخابات نگران حکومت اور دیگر اہم معاملات کو نظریہ ضرورت کے نئے تناظر میں دیکھنا چاہئے یہ جو نواز شریف اور زرداری سیاست سیاست اور انتخابات کا گیم کھیل رہے ہیں یہ محض استعمال ہورہے ہیں اصل حقیقت اور ہے جو کچھ عرصہ بعد سمجھ میں آئے گا حقائق جو بھی ہوں وہ بہت تلخ ہیں اور ملک کو درپیش آئینی معاشی اور سیاسی بحران زیادہ سنگین ہوجائیں گے۔


