ایرانی فورسز نے چابہار میں اسلحے کی اسمگلنگ ناکام بنا دی، بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد، 5 افراد گرفتار

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی حکام نے ہتھیاروں کی اسمگلنگ ناکام بنا دی۔ اطلاعات کے مطابق غیر قانونی ہتھیاروں کی اسمگلنگ کیخلاف ایک اہم کریک ڈاو¿ن میں ایرانی قانون نافذ کرنے والے حکام نے صوبہ سیستان، بلوچستان میں واقع شہر چابہار کے اندر اسلحے کی اسمگلنگ کی کارروائی کو کامیابی سے روک دیا۔ سیستان، بلوچستان کے صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل دستالی جلیلیان نے پریس کو بتایا کیا کہ آتشیں اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں ملوث مشتبہ افراد کو پکڑنے کے لیے منصوبہ بند کارروائی کی۔ چابہار شہر میں کی گئی اس کارروائی میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا جن پر اسلحہ کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ایک رہائشی املاک پر چھاپہ مارا جہاں پانچ مشتبہ افراد موجود تھے۔ چھاپے سے ہتھیاروں کا ایک حیران کن ذخیرہ برآمد ہوا، احاطے سے کل 50 پستول، جن کے ساتھ تین شکاری بندوقیں اور 99 میگزینیں ضبط کی گئیں۔ جنرل جلیلیان نے سیکورٹی کو برقرار رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صوبے کے عزم کی توثیق کی، خاص طور پر وہ جو ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے متعلق ہیں۔ ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع صوبہ سیستان بلوچستان، پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا اشتراک کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ سرحد پار سے مختلف قسم کی مجرمانہ کوششوں کا شکار ہے۔ کامیاب آپریشن ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے اور اپنی سرحدوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایرانی حکام کی پرعزم کوششوں کا ثبوت ہے۔ ان آتشیں اسلحے کی ضبطی خطے میں عوامی تحفظ کو بڑھانے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں