سپریم کورٹ نے احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل دورکنی بینچ نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل اورسابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی۔ درخواست گزار سید محمود اخترنقوی کا کہنا تھا کہ احسن اقبال کا 5 سال پرانا بیان کہ جج جرنیل کی طرح ہماری بھی عزت ہے، توہین عدالت ہے، میرا مدعا یہ ہے کہ کوئی بھی آئین وقانون سے بالاتر نہیں۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تقریر نہ کیجئے۔ چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ یہ عدالت نے طے کرنا ہوتا ہے کہ توہین ہوئی یا نہیں، احسن اقبال نظم وضبط والے انسان ہیں، میری نظر میں احسن اقبال بڑے سنجیدہ اوردانشور ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ احسن قبال نے 2018میں خطاب میں کہا تھا کہ ان کی بھی عزت نفس کا تحفظ ہونا چاہیئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کچھ ایسا کہا گیا جس کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا توہین عدالت کااختیار عام استعمال کے لئے نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ احسن اقبال نے کہا تھا کہ ان کی عزت بھی کیس جج یا جرنیل کے برابر ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔ واضح رہے کہ درخواست گزار کی جانب سے احسن اقبال کے خلاف 2018میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔


