پشتون بلوچ صوبے کا پاکستان کے دیگر صوبوں سے منقطع رابطہ بحال کیا جائے، پشتونخوا میپ

کوئٹہ (آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پشتون بلوچ صوبے کا ملک کے دیگر صوبوں سے مواصلاتی رابطوںکے منقطع ہونے اور درپیش دشواریوں کے باعث ہمارے زمینداروں ، ٹرانسپورٹروں ، مسافروں ، ملازمین سمیت تمام عوام کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ اوتھل سے وندر کے مقام پر 8پُلوں(برجز) پچھلے سال سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ، کراچی اور حب کے مابین بڑا پُل پہلے ہی ٹوٹ چُکا ہے حالیہ بارشوں سے یہ مکمل بند ہے۔ کراچی کوئٹہ کیلئے مختصر راستہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے بند پڑا ہے اور عوام حب بائی پاس کے راستے کا استعمال کررہے ہیں جس پر چھوٹی ، بڑی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹریفک انتہائی زیادہ ہے اور کسی حادثے کی صورت میں یہ شاہراہ گھنٹوں گھنٹوں بند رہتی ہے اور لوگ شدید گرمی میں پھنسے رہتے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ دہانہ سر کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک ایک ہفتے تک ٹریفک کیلئے بندہوجاتی ہے ، یہی صورتحال کوئٹہ ڈیرہ غازی خان شاہراہ کی ہے فورٹ منرو کا راستہ لینڈ سلائیڈنگ ، ٹریفک حادثے ، بڑی گاڑی کے الٹنے کے باعث سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں اور ٹریفک کی روانی مکمل بند ہوجاتی ہے ، جبکہ ڈیرہ غازی خان تک شاہراہ مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، کچی سڑک ہونے اورکھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں جس پر تمام ٹرانسپورٹروں ، ڈرائیوروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ سبی جیکب آباد شاہراہ پنجرہ پُل نہ ہونے کے باعث بند رہتی ہے معمولی بارش اور سیلابی ریلا آنے یا کسی حادثے کی صورت میں کئی کئی دن تک یہ شاہراہ بند رہتی ہے، گزشتہ سال کے بارش اور بڑے سیلابی ریلے میں پنجرہ پُل بہہ گیا جس کی تعمیر اب تک نہ ہوسکی ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے زمینداروں ، کسانوں جو کہ پہلے ہی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ، ژالہ باری سے کروڑوں روپے کے نقصانات ہوجاتے ہیں اور اب رہی سہی کسر ان اہم تین شاہراہوں کی بندش نے پوری کردی ہے ، حال ہی میں تیار ہونیوالی فصلیں ، پھلیں جو کہ گاڑیوں میں لوڈ تھی اور ان شاہراہوں کی بندش کے باعث کروڑوں روپے کی پھل ،میوہ جات اور سبزیوں کا ضیاع ہوا اور ٹرانسپورٹرز کوبھی تیل کی مد میں نقصان پہنچا۔ بیان میں ان تمام نقصانات کی ذمہ دار گزشتہ حکومت اور بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے جن کی نااہلی ،غیر سنجیدگی کے باعث نہ صرف زمینداروں، کسانوں ، ٹرانسپورٹرز بلکہ ہمارے صوبے کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے عوام کو بدترین اذیت اور نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہنگامی بنیادوں پر ان شاہراہوں کی تعمیر ، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے مستقل بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھائیں اور ہمارے زمینداروں ، ٹرانسپورٹروں ، کسانوں سمیت تمام عوام کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں