فروری میں انتخابات نہ ہوئے تو پھر خاموش آمریت ہوگی، حافظ حمد اللہ

کوئٹہ (یو این اے) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ( پی ڈی ایم )کے مرکزی ترجمان مولاناحافظ حمد اللہ نے کہاہے کہ فروری میں انتخابات نہ ہوئے تو پھر خاموش آمریت ہوگی اور ایسے عمل پر سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے تحریک چلانے پرمجبورہوں گی۔اگر سالے، بھتیجے، بھائی اور رشتے دار وزیر بنانے ہیں توپھر یہ کمپنی نہیں چلے گی، یہ تونگران حکومت نہیں بلکہ گھریلو سیاست ہے، اس ماحول میں صاف شفاف انتخابات ہونا ناممکن ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔مولاناحافظ حمد اللہ نے انتخابات میں تاخیر کے حوالے سے کہا کہ فروری میں انتخابات نہ ہوئے تو پھر خاموش آمریت ہوگی اور آئین سے ماورا عمل کو دوام دینے کی کوشش نیک نیتی نہیں ہوگی۔حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ ایسے عمل پر سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے تحریک چلانے پرمجبورہوں گی،مجھے نظرآرہا ہے اورمحسوس کررہا ہوں کہ یہ مجبوری سیاستدانوں پر آئےگی، اس تحریک کے لیے تمام جماعتوں کی وحدت کا نقطہ مولانا فضل الرحمان ہوں گے۔ترجمان پی ڈی ایم نے کہا کہ ایک دن یہ سارے سیاستدان کہیں گے، الیکشن الیکشن الیکشن اور ایک دن آئےگا جو نعرہ پی ٹی آئی چیئرمین کاہےوہی مسلم لیگ ن کا ہوگا۔مستقبل میں بننے والی حکومت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں جوبھی حکومت بنےگی وہ فضل الرحمان اورجے یوآئی کے بغیرنہیں بن سکتی اور اگر جے یو آئی کے بغیرحکومت بنی یا بنائی گئی تو وہ چل نہیں سکے گی۔نگران کابینہ کے قیام کے حوالے سے حافظ حمداللہ نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں دیکھ رہا ہوں کس طرح نگراں کابینہ بنائی جارہی ہے، اگر سالے، بھتیجے، بھائی اور رشتے دار وزیر بنانے ہیں توپھر یہ کمپنی نہیں چلے گی، یہ تونگران حکومت نہیں بلکہ گھریلو سیاست ہے، اس ماحول میں صاف شفاف انتخابات ہونا ناممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں