واشک میں نان ٹیچنگ پوسٹوں پر غیر مقامی افراد کی بھرتیاں کالعدم قرار دی جائیں، بی ایس او پجار

کوئٹہ (آن لائن) بی ایس او پجار کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار برکت بلوچ نے چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ واشک میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کی جانے والی بھرتیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقامی لوگوں کو درجہ چہارم کی اسامیوں پر بھرتی کیا جائے گزشتہ 4 روز سے مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے سکولوں کو تالے لگا دیئے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اپنے دیگر ساتھیوں نوید تاج، شے مریدرشیدکے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ واشک بلوچستان کا پسماندہ ترین علاقہ ہے جہاں تعلیم صحت دیگر مسائل آئے روز بڑھتے جارہے ہیں۔واشک رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ضلع لیکن بدقسمتی سے واشک کے ساتھ کبھی بھی انصاف نہیں کیا گیا ہے۔جس کی وجہ سے آج بھی علاقے کے عوام تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔محکمہ تعلیم میں درجہ چہارم و دیگر پوسٹوں پر اقربا پروری کے خلاف تمام تعلیمی ادارے عوام نے احتجاجاً بند کردیئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی درجہ چہارم کی پوسٹوں پر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ۔ ماشکیل شاہو گیڑی واشک بسیمہ میں چوکیدار نائب قاصد خاکروب کی اسامیوں پر دور دراز کی تحصیلوں سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اگر یہ ٹیکنیکل اسامیاں ہوتی تو کسی کو ان پر اعتراض نہیں ہوتا۔جن سکولوں کے لیے یہ اسامیاں آئی تھی وہاں بے روزگار نوجوانوں نے کاغذات جمع کیے تھے لیکن ان میں سے کسی کو بھی حقدار نہیں سمجھا گیا۔اور نہ ہی روزگار دیا گیا ہے باہر سے لوگوں کو تعینات کرنے کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے علاقہ مکینوں نے اس ناروا اقدام کے خلاف علاقے کے تمام سکولوں کی تالا بندی کرکے احتجاج شروع کر رکھا ہے تا حال حکام بالا نے اس کا نوٹس نہیں لیا علاقے کے مڈل سکول دھمگ پتک مڈل اسکول ہیڈ و مڈل اسکول ابا بکری ہائی سکول اسفند آباد ہائی سکول گرائی مڈل سکول جنگلی مڈل سکول چھالا مار گورش گرلز ہائی اسکول کروگی کے سکولوں کے طرح گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سیا ہوز کی گورنمنٹ سکول چھا کر صول گورنمنٹ اسکول منگر، گورنت ہائی اسکول گرائی گورنمنٹ مڈل اسکول زرد گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، اشکیل کو بھی عوام نے تالہ لگا کر بند کر دیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مقامی لوگوں کو نظر انداز کرکے دیگر یونین کونسلز سے لوگوں کو بھرتی کرنے کے عمل کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک چار درجن سے زائد تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں