بلوچستان بھر میں مہنگائی کا جن بے قابو، مختلف اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کردیا گیا
کوئٹہ (آن لائن) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد آٹے اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں فی کلو چینی 205روپے جبکہ ایک کلو آٹا 180سے 200 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بلوچستان کے علاقوں ہرنائی، زیارت، شیرانی، کیچ، کوہلو، خضدار اور خاران سمیت دیگر اضلاع میں فی کلو چینی 220 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ آٹا 180 سے 200 روپے میں فروخت ہونے لگا تاہم حکومت قیمتیں کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ چینی کی ہمسایہ ملک اسمگلنگ ہے اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔جبکہ کوئٹہ میں چینی کی فی کلو قیمت 205 روپے ہوگئی ہے ضلعی انتظامیہ پرائس کنٹرول کمیٹی اور ضلعی مجسٹریٹ کی جانب سے گراں فروشوں کے خلاف تا حال کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے دکانداروں نے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کرکے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے۔ جبکہ ایک ہفتے میں چینی کی قیمت میں 25 روپے اضافہ ہوا ہے اور یوٹیلٹی سٹور پر چینی دستیاب نہیں۔ علاوہ ازیں پنجگور میں مہنگائی عروج پر پہنچ گیا ہے نان وائیوں نے روٹی کی قیمت 70 روپے سے بڑھا کر 80/ 100 روپے کردی ھے پٹرول فی گیلن 12سو روپے مرغی کا گوشت فی کلو 8 سو روپے اسی طرح اشیا خورونوش کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے سے عام آدمی سخت متاثر ہیں اور لوگوں کا قوت خرید جواب دے گیا ہے۔


