پاکستان میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے ، اقوام متحدہ
کراچی(این این آئی)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں معاشی بدحالی کے سبب مڈل کلاس کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طبقہ اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیتا ہے، جب کہ اشرافیہ معاشرے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے متوسط اور غریب طبقے کے ذہین لوگوں کو خریدنے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے، مگر مڈل کلاس طبقہ معاشی و تعلیمی ترقی کی مساوی بنیاد پر انقلابی تبدیلیاں لاتا ہے۔مڈل کلاس کی اس بنیادی اہمیت کو مد نظر رکھ کر پاکستان کی صورت حال دیکھی جائے تو یہ تشویش ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاشی بدحالی نے پاکستان میں مڈل کلاس کی تعداد گھٹا دی ہے، اور مڈل کلاس کی شرح 42 فی صد سے کم ہو کر 33 فی صد رہ گئی ہے۔ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشاکے مطابق پاکستان میں مڈل کلاس طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے، مشرف دور میں پاکستان کی مڈل کلاس آبادی 45 فی صد تھی جو اب کم ہو کر 33 فی صد رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشی عدم استحکام مڈل کلاس کی قوت خرید میں کمی جیسے عوامل اس کی بڑی وجہ ہیں۔ڈاکٹر حفیظ کے مطابق کسی بھی معاشرے میں مڈل کلاس ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ افراط زر سے غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر پاشا نے بتایا کہ ملک میں بیروزگاری میں سالانہ 10 فی صد اضافے کی وجہ سے ہر سال تقریبا 30 لاکھ افراد غریب طبقے میں شامل ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں امیر طبقہ اوسطآ اپنی آمدن کا 20 سے 30 فی صد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے، دوسری جانب متوسط اور غریب طبقے کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی آمدن کا 70 سے 80 فی صد حصہ خوراک ہی پر خرچ کرتی ہے۔ملک میں جاری معاشی بدحالی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور بے روز گاری نے مڈل کلاس کو بری طرح متاثر کیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان مِں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے امیر مزید امیر ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو کچھ ہی عرصے میں مزید 2 کروڑ کے قریب لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔کسی بھی معاشرے میں مڈل کلاس وہ طبقہ ہے جو معیشت اور معاشرت دونوں معاملات میں فروغ کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کرتا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ جتنا بڑا متوسط طبقہ ہوگا اتنی ہی اس کی معیشت میں ترقی ہوگی۔


