بلدیاتی انتخابات حلقہ بندیاں، ضلع کوئٹہ ایک میٹرو پولیٹن اور 4 ٹاﺅنز پر مشتمل ہوگی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئٹہ کی حلقہ بندیاں مکمل کرلی گئیں۔ ضلع کوئٹہ ایک میٹروپولیٹن اور 4 ٹاو¿نز پر مشتمل ہوگی۔ میٹرو پولیٹن اور ٹاﺅنز کی مکمل نئی تفصیل اس طرح ہے حالیہ حلقہ بندی میں کوئٹہ ڈسٹرکٹ کو 4 ٹاﺅنز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زرغون ٹاﺅن کو 45 یونین کونسل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زرغون ٹاﺅن میں کل 163 وارڈ بنائے گئے ہیں۔ زرغون ٹاﺅن کی 45 یونین کونسل کی کل آبادی 574604 ہے۔ زرغون ٹاﺅن میں عالم خان، شابو، اسمنگلی روڈ، سرِ پل، کلی اسماعیل، سبزل روڈ، پدگلی چوک، بروری روڈ، وحدت کالونی، جوائنٹ روڈ، ہدہ جیل روڈ، منو جان روڈ، چمن پھاٹک، پی ٹی سی ایل کالونی، زرغون روڈ، ریلوے کالونی، ڈبل روڈ، تیل گودام، علمدار روڈ، مری آباد، پشتون آباد، کاسی روڈ، مین بازار، پٹیل باغ، سرکی روڈ، جان محمد روڈ، سیٹلائٹ ٹاﺅن بلاک 1، کاکڑ کالونی، اچکزئی مارکیٹ، شالدرہ، قلندر مکان، بلوچی اسٹریٹ شامل ہیں۔ چلتن ٹاﺅن میں 45 یونین کونسل، 171 وارڈ، کل آبادی 588942 ہے۔ ٹاﺅن میں جو علاقے شامل ہیں ان میں ہزارہ ٹاﺅن، کرانی، بروری روڈ، پدکلی چوک کا علاقہ مغرب کی طرف، ترِہ، ابراہیم زئی، رئیسانی روڈ، ارباب کرم خان روڈ، عیسیٰ نگری، شاہ زمان روڈ، کلی شیخان، ڈبل روڈ مغرب کی طرف، سریاب روڈ، سیٹلائٹ ٹاﺅن بلاک 2۔3۔4۔5، غوث آباد، یونیورسٹی، لوڑ کاریز، مشرقی بائی پاس، قمبرانی روڈ کرانی کی طرف، بینک کالونی، کلی جیو، اختر آباد، ہزار گنجی کرانی کی طرف۔ سریاب ٹاﺅن میں 38 یونین کونسل، 145 وارڈ، کل آبادی 497480 ہے۔ سریاب ٹاﺅن میں کیچی بیگ، حبیب خان، عزیز خان، تختانی بائی پاس، ہزار گنجی، میاں غنڈی، سریاب کسٹم، شیِخ زید، انڈسٹریل ایریا، بھوسہ منڈی، تیرہ میل اور اس کے تمام مضافاتی علاقے شامل ہیں۔ تکتو ٹاﺅن میں 42 یونین کونسل، 161 وارڈ کل آبادی 539018 ہے۔ تکتو ٹاﺅن میں کچلاک، سمنگلی، بلیلی، نوحصار، اغبرگ، پنجپائی، ہنہ اوڑک، نواں کلی، سرہ غڑگئی، کلی گل محمد، خیزئی چوک،خروٹ آباد، کوتوال، شیِخ ماندہ، چشمہ، پی ایم ڈی سی، زڑِِخو، سورینج، ڈیگاری شامل ہیں۔ تمام یونین کونسل میں خواتین، لیبر، کسان، اقلیت کی صرف ایک ایک نشست مخصوص کی گئی ہیں، جن یونین کونسل میں پانچ وارڈ ہیں اس یونین کونسل میں خواتین کی دو نشستیں ہوں گی۔ ٹاﺅن کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کونسل میں خواتین کی 30 فیصد نمائندگی ہوگی۔ لیبر، کسان اور اقلیت کی 10 فیصد نمائندگی ہوگی جن کا انتخاب یونین کونسل میں منتخب کونسلر، ٹاﺅن میں یونین کونسل کے منتخب وائس چیئرمین اور ڈسٹرکٹ کونسل میں ٹاﺅن کے منتخب چیئرمین کریں گے۔


