پنجاب کو دشمن سے ملک سے کاروبار کی اجازت، بلوچستان میں دوست ممالک سے کاروبار پر پابندی باعث حیرت ہے، ٹرانسپورٹرز
حب (نمائندہ انتخاب) سرحدی تجارت پر پابندی، بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز سراپا احتجاج گوادر کراچی ٹرک ٹرالر اینڈ گڈز اونر ویلفیئر ایسوسی ایشن نے ٹرک ٹرمینل بھوانی کے مقام پر احتجاجی کیمپ قائم کر کے مال بردار گاڑیاں کھڑی کردیں، سیاسی جماعتوں اور اہم سرکردہ شخصیات نے بھی حمایت و یکجہتی کا اعلان کردیا ،پاک ایران بارڈر کسٹم کلیئرننگ ایجنٹس کا ٹرانسپورٹرز سے اظہار یکجہتی بھوتانی کارواں کے سرکردہ رہنمائ حاجی کریم چھٹہ سرور رونجھو ودیگر اور کسٹم کلیئرننگ ایجنٹس ایسوسی ایشن رہنمائ حاجی اکرم بہار بھی ٹرانسپورٹرز کے احتجاجی کیمپ پہنچ گئے بارڈر ٹریڈ کی بندش اور ایرانی تیل کی مال بردار گاڑیوں میں استعمال کیلئے اجازت نہ ہونے پر ٹرانسپورٹرز نے مکران ڈویڑن کو کراچی سے اشیائ خورونوش اور ایران سے مال کی اندرون ملک سپلائی بند کردی اس حوالے سے گوادر کراچی ٹرک ٹرالر اینڈ گڈز اونر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حمید شاہین عمرانی ،جنرل سیکرٹری کریم کلیڑزئی ،چیئرمین ظفر رخشانی اور چیئرمین کور کمیٹی حاجی اسلم لہری نے عہدیداران اور ٹرانسپورٹرز کے ہمراہ بھوانی کے مقام دفتر میں ایک پ±ر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ پریس کانفرنس صرف ٹرک،ٹرالرز،والوں کی نہیں بلکہ بلوچستان کے 70 لاکھ سے زیادہ ،مزدور،کسان،ماہی گیروں،تاجران،گڈز،اونرز،ڈپومالکان،گیراج مستری،ہیلپرز،ڈرائیور،کنڈیکٹرزکی بہترمفاداور،روزگارکی تحفظ کے لئے ہیں بلوچستان کے 70 لاکھ سے زیادہ لوگوں کاروزگار،اورگزبسرپاک ایران باڈرٹریڈسے وابستہ ہے ،اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے مطابق عوام کوروگارفراہم کرنا،تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن بلوچستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے ،یہاں پرنہ بنیادسہولیات حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی وہے،اورنہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی بڑے منصوبے روزگارکی فراہمی دیئے گئے ،بلوچستان کے مقابلے میں دیگرصوبوں میں صورت حال مختلف ہے،دیگرصوبوں پنجاب کوہمارے دشمن ملک بھارت سے کاروبارکی اجازت ہے،خیبرپختواہ کوپاک چین ،اورپاک افغان تجارت کی مکمل آزادی ہے ،جبکہ بلوچستان میں پاک ایران باڈرٹریدہرہفتے بندکردیاجاتاہے۔ہزاروں ڈرائیوکنڈیکٹرپاک ایران باڈرپردونوں طرف پھنس جاتے ہے،دوسری جانب بھارت سے واہگہ باڈرکے ذریعے داخل ہونے والے گاڑیوں کوطورخم،پشاورتک بلکہ افغانستان تک جاتے ہوئے راستے میں کوئی چیک یاروک تھانہیں ہے۔بلوچستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں پرہر25 سے 30 کلومیٹرپروفاقی اداروں یاصوبائی اداروں کے غیرضروری چیک پوسٹیں موجودہے،جن کو بلوچستان کابینہ نے بھی غیرقانونی قراردیکرختم کئے،لیکن نگران حکومت کے آتے ہی یہ غیرضروری چیک پوسٹ چندافسران نے اپنے ذاتی مفادکے لئے پھرقائم کردیئے ہیں جس پررشوت خوری کابازارگرم ہے،ان کے خلاف اینٹی کرپشن اورفیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی کی خاموشی حیران کن ہے ،ان غیرضروری چیک پوسٹوں کاقیام سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات اورہائی ویزاینڈموٹروے سیفٹی آرڈینسNHSO-2000 کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دوبڑے ڈویڑن ،قلات ڈویڑن اورمکران ڈویڑن میں حکومت اورپیٹرولیم کمپنیاں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہم میں روزاول سے ناکام چلی آرہی ہے ،جس کی مثال درج ذیل ہے۔مزیدیہ کہ اوتھل زیروپوائنٹ سے لیکراورماڑہ،پسنی،نیلٹ،گوادر،جیوانی، تربت،مندبلوتک جبکہ دوسری جانب بیلہ کراس سے یکرجھا?ڈنڈار،نوندڑہ،آواران،مشکے،گشکور،ہوشاب،کولواہ،تربت،مندبلوتک۔تیسری جانب سوراب کراس سے لیکرزعمران،ناگ زعمران،بیسمہ ،پنجگورپاک ایران باڈرٹریڈزون تک۔ ان علاقوں میں کوئی سرکاری پیٹرول پمپ کانہ ہوناہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک ایران باڈرٹریڈ،بشمول ،ڈیزل اورپیٹرول کے کاروبارسے بلوچستان کے لاکھوں افرادکے گھرچل رہے ہیں،یہاں تک کہ بلوچستان کے دوبڑے ڈویڑن ،مکران ڈویڑن اورقلات ڈویڑن کے ،عوام،کسان،ماہی گیر،تاجران،اورٹرانسپورٹرزکاگزربسرپاک ایران باڈرٹریڈسے وابستہ ہے،ہ سمجھتے ہے کہ ان علاقوں میں روزگارکے لئے کوئی کمپنی(فیکٹریاں)موجودنہیںہے۔ایسے صورتحال میں متبادل روزگارفراہم کئے بغیرپاک ایران باڈرٹریڈ،بشمول ،ڈیزل اورپیٹرول کے کاروبارپابندی بلوچستان کے عوام کامعاشی قتل عام کے مترادف ہے۔یادرہے کہ وفاقی حکومت شمالی علاقہ جات کے باڈرایریامیں بھاری سبسیڈی فراہم کرہی ہے جبکہ بلوچستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں سبسیڈی تودورکی بات اپنی مدد آپ کے تحت قیام پاکستان سے قبل سے جاری کاروبارپرپابندعائدکردی گئی۔ انھوں نے کہاکہ میڈیا کے توسط سے ہماری انسانی ہمدردی کے تحت ،وزیراعظم،پاکستان،آرمی چیف،وفاقی وزیرداخلہ،گورنربلوچستان،وزیراعلی بلوچستان،صوبائی وزیرداخلہ ہے درخواست ہے کہ جب تمام صوبائی ادارے اورتمام وفاقی ادارے بھی اپنی ضروریات ایرانی پیٹرولیم مصنوعات سے ہی پوراکرتے ہیں یعنی ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کااستعمال کرتے ہیں۔عوام اورٹرانسپورٹروں کوبھی حسب سابقہ اجازت دی جائے۔ان غیرضروری پابندیوں کی وجہ سے سی پیک منصوبہ اورگوادرپورٹ کی ناکامی کااندیشہ ہے ،انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر عوام،کسان،زراعت کی مشینری،ماہی گیر،تاجران،اورخوردنی اشیاکی ترسیل ،اورٹرانسپورٹیشن کے لئے ٹرانسپورٹرزکوحسب سابق ریلیف دیاجائے اورغیرضروری چیکنگ اورچیک پوسٹوں کاخاتمہ کیائے،تاکہ عوام ،کسان،تاجران،ماہی گیروں اورٹرانسپورٹرزملکی قانون اورآئین کے تحت آزادانہ اپناروزگارکرسکیں۔اگرہمارے مطالبات پر غور نہ کیاگیاتوپھرہم اپنے آئینی اورقانونی حق کے لئے سڑکوں پرآئے گے،احتجاج اوراحتجاجی دھرنے بھی ہونگے،پہیہ جام ہڑتال بھی ہوگی۔اوریہ سلسلہ غیرمعینہ مدت تک جاری رہیگا۔


