پنجگور میں آبپاشی کا قدیم کاریزی نظام حکومتی عدم توجہ کے باعث زبوں حالی کا شکار
پنجگور(یواین اے)آب پاشی کے قدیمی کاریزی نظام حکومتی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہوکر اہستہ اہستہ ختم ہونے کے قریب پہنچ چکاہے قدیمی آب پاشی کے کاریزی نظام کی عدم بحالی کے باعث پنجگور کے زراعی زمینوں اور باغات شدید متاثر بیشتر زرعی زمین باغات تباہ ہوچکے ہیں ،راعت سے وابستہ زمیندار اور عوامی حلقوں نے حکومت سے پنجگور کے قدیمی کاریزی نظام کیلئے خصوصی پیکیج کے ذریعے بحال کرنے کا مطالبہ کیاہے۔تفصیلات کے مطابق پنجگور بلوچستان کے زرخیز اور زرعی اعتبار سے ایک خود کفیل ضلع کے نام سے پہچانا جاتا تھا، جہاں دنیا کے زئقہ کے لحاظ اعلی کوالٹی کے کھجور پیدا ہوتا ہے جنہیں دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے اور سالانہ لاکھوں ٹن کھجور پیدا ہوکر اندرون ملک اور بیرون ملک فروخت کیا جاتا تھا پنجگور کو بلوچستان کے زراعی حوالے سےسر سبز وشاداب کے بھی نام سے بھی مشہور تھا پنجگور کے سر سبز و شاداب اور کھجوروں کے شہر کی بنیادی کردار قدیمی کاریزی نظام ہوا کرتے تھے جہاں قدیمی کاریزی نظام سے لوگ اپنے باغات کھیت بندات کو قدیمی کاریزی نظام سے پانی دیکر آباد کیا کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے زرائع آب پاشی کے قدیمی کاریزی نظام حکومتی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار بیشتر مشہور زرعی کاریزات ختم ہوکر رہ گئے ہیں حال ہی میں کاریزات کی بحالی کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے کتوڈوں روپے کے فنڈز ریلیز ہوگئے تھے لیکن کرپشن اقربا پروری کی نظر ہوکر غائب کردیے گئے ہیں ایک بھی زرعی کاریزات پر تاحال ایک روپے بھی خرچ نہیں ہوسکے زرعی کاریزی نظام کی زبوں حالی کے باعث پنجگور کے زراعت شدید متاثر اور زراعت سے وابستہ افراد نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین پانی کی عدم دستیابی سے بنجر بن گئے ہیں پنجگور کے مشہور کاریز فیض جان کاریز خدابادان مولئی کاریز خدابادان لعل آباد کاریز خدابادان شکرک کاریز عیسئی سمیت وشبود گرمکان بونستان تسپ سوردو سریکوران کے بیشتر کاریزات صفائی اور بحالی نہ ہونےسے زبوں حالی کا شکار بن کر کھنڈرات میں تبدیل ہوکر ختم ہونے قریب پہنچ گئے ہیں پنجگور کے مشہور کاریز شکرک جو ماضی میں اس کاریز کی چرچے ہندوستان میں ہوا کرتا تھا اب خشک ہوکر ختم ہوکر رہ گئی ہے پنجگور کے زراعت اور زرعی زمینوں کو آباد کرنے کیلئے واحد زرائع اپ پاشی کا نظام کاریزات پر منحصر ہے زمیندار کاریزات کی پانی سے اپنے زمینوں اور باغات کو سیراب کرکے سر سبز کرتے ہیں ا مگر اب حکومتی عدم توجہی اور عوامی نمائندوں کی غیر زمہ دارانہ رویہ اور پالیسی سے پنجگور کے قدیمی کاریزی نظام اپنی افادیت کھو کر خشک ہوچکے ہیں اسکے علاوہ پنجگور کے کاریزات علاقے کے تہزیب اور قدیمی ثقافت سے بھی وابستہ ہیں اگر فوری طور پر پنجگور کے قدیمی کاریزی نظام پر توجہ نہیں دی گئی تو پنجگور کے قدیمی تہزیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ پنجگور کے زراعت کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوسکتی ہے زمیندار اور عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے اپیل کی ہے کہ وہ پنجگور کے زراعت کو بچانے کیلئے قدیمی کاریزی نظام کی بحالی کیلئے خصوصی اقدامات اور خصوصی پیکیج کا اعلان کریں۔


