کوئٹہ میں سہ روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا آغاز آج سے کیا جاچکا ہے.بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس

بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی جانب سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ہٹ دھرمی اور آنلائن کلاسز کے خلاف کوئٹہ پریس کلب میں سہ روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ کے پہلے روز طلباء اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس احتجاجی کیمپ سے مقررین نے آنلائن کلاسز کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور انٹرنیٹ سے محروم دیگر علاقہ جات کے معروضی حقائق کے برعکس ایچ ای سی کی تعلیمی پالیسیاں تشویشناک ہیں۔
اس حوالے سے بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس کی پالیسی روز اول سے واضح ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس الائنس نے پہلے کراچی میں بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد کیا اور اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے اسلام آباد سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاعات میں احتجاجی کیمپ منعقد کئے اور طلبہ سے اظہار یکجہتی کے لئے احتجاجی ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا لیکن چیئرمین ایچ ای سی وزیر تعلیم اور اعلٰی حکام نے اب تک طلباء کے حق میں کوئی قابل زکر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے طلباء سراسیمگی کے عالم میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان میں انٹرنیٹ کے معطلی کی وجہ صوبے کی امن امان کی بحالی بتائی جاتی ہے لیکن آج یہ مسئلہ طلباء کے لئے بھیانک صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ طلباء کے آنلائن کلاسز جاری ہیں اور طلبا کی کثیر تعداد اپنے آبائی علاقوں میں انٹرنیٹ کے معطلی کی وجہ سے اپنے کلاسز لینے سے محروم ہیں۔ طلباء کی کثیر تعداد کا احتجاج اور بھوک اڑتالی کیمپ میں شرکت اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ طلباء ایچ ای سی کی جانب سے مسلط کردہ تعلیمی نظام کو مسترد کرتے ہیں۔
اس حوالے سے طلبہ و طالبات ایچ ای سی کو اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرچکے ہیں اور چارٹر آف ڈیمانڈ میں اس بات کا واضح مطالبہ کیا ہے کہ ہم پڑھنا چاہتے ہیں مگر موجودہ تعلیمی پالیسیوں کے پیش نظر ہم تعلیم سے محروم ہیں۔ لٰہذا ہم ایک مرتبہ پھر ایچ ای سی وزیر تعلیم شفقت محمود اور دیگر اعلٰی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے طبقاتی تعلیمی پالیسیوں پر نظر ثانی کرکے طلبا و طالبات کے مستقبل سے کلھواڑ بند کرے اور طلباء کے حق میں مفید تعلیمی پالیسیاں مرتب کرکے طلباء کے تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچائے

اپنا تبصرہ بھیجیں