حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری بلوچستان کی نشستیں برقرار
اسلام آباد(آن لائن) حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت کے مطابق قومی اسمبلی جنرل نشستوں کی تعداد 266 ہوگئی ہیں۔پنجاب اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد 297 ہوگی ۔سندھ اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 130 ہوگی ۔کے پی کے اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 115 ہوگی ۔بلوچستان اسمبلی کی جنرل نشتیں 51 ہونگی۔پنجاب میں قومی اسمبلی کی 141، سندھ میں 51 نشتیں ہونگی ۔کے پی کے میں 45 جبکہ بلوچستان میں قومی اسمبلی کی 16 نشتیں ہونگی ۔وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی 3 سیٹیں ہونگی۔ الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں سندھ کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدل کیا ہے اس طرح خیرپور، سانگھڑ اور ٹھٹھہ کی ایک ایک نشست کم ہوگئی۔خیرپور کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 7 سے کم ہوکر 6 ہوگئیں،۔سانگھڑ کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 6 سے کم ہوکر 5 ہوگئیں،ٹھٹھہ کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 3 سے کم ہوکر 2 ہوگئیں،ملیر، کراچی ایسٹ اور کراچی سینٹرل کی ایک ایک نشست میں اضافہ ہوگیا،ملیر کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 5 سے بڑھ کر 6 ہو گئیں،کراچی ایسٹ کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 8 سے بڑھ کر 9 ہوگئیں۔کراچی سینٹرل کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 8 سے بڑھ کر 9 ہوگئیں۔حلقہ بندیوں میں اسلام آباد کی تین قومی اسمبلی کی نشستیں برقرار رکھی گیئں ہیں۔چترال اپر اور چترال لوئر کو ملا کر ایک قومی اسمبلی کا حلقہ رکھا گیا ہے۔کوہستان اپر، لوئر اور کولائی پلاش کو ملا کر تین علاقوں میں ایک نشست رکھی گئی ہے۔مانسہرہ اور ترغر کو ملا کر ایک نشست رکھی گئی ۔ہنگو اور اورکزئی کو ملا کر ایک نشست رکھی گئی ہے ۔ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو ملا کر تین نشستیں رکھی گئی ہیں۔جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان کے حلقوں کو ملا کر ایک نشست کر دی گئی ۔گوجرانوالہ اور حافظ آباد کو ملا کر چھ نشستیں رکھی گئی ہیں ۔جہلم میں قومی اسمبلی کی دو نشستیں برقرار رکھی گئیں ہیں ۔فیصل آباد میں قومی اسمبلی کی دس نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں۔لاہور کی چودہ نشستیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں ۔ملتان اور رحیم یار خان کی چھ چھ نشستیں بھی برقرار رکھی گئیں ہیں۔ضلع راولپنڈی اور مری کو ملا کر 7 نشستیں رکھی گئی ہیں، چکوال، تلہ گنگ کو ملا کر دو نشستیں برقرار رکھی گئی ہیںمظفر گڑھ کی چا، بہاولپور کی 5 نشستیں برقرار رکھی گئی ہیںلودھراں کی دو نشستیں برقرار رکھی گئی ہیںجیکب آباد، کشمور اور شکارپور کے اضلاع کو ملا کر چار قومی اسمبلی کی نشستیں رکھی گئی ہی،کراچی میں قومی اسمبلی کی 22 نشستیں ہو گئیں۔کراچی میں پہلے 21 قومی اسمبلی کی نشستیں تھیںکراچی اضلاع کی صوبائی اسمبلی کی کل 47 نشستیں رکھی گئی ہیں، بلوچستان کی قومی اسمبلی کی 16نشستیں برقرار رکھی گئی ہیںخیبرپختونخوا میں قومی اسمبلی کے دس اضلاع ایک قومی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کے لیے متعلقہ آبادی حاصل نہ کر سکے۔خیبرپختونخوا کے تیرہ اضلاع کی حلقہ بندی توڑ کر ایک حلقہ بنایا گیا ہے، مری کی ایک قومی اسمبلی کی نشست کے لیئے راولپنڈی سے آبادی لی گئی ۔تلہ گنگ اور چکوال کے اضلاع کو ملا کر ایک قومی اسمبلی کی نشست بنائی گئی ۔ضلع حافظ آباد کی ساڑھے تین لاکھ آبادی کو گوجرانوالہ کی قومی اسمبلی کی ایک نشست مین ایڈجسٹ کیا گیا، ضلع قصور کی آبادی زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے چار نشستیں برقرار رکھی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں میں سندھ کی قومی اسمبلی کی نشستوں میں ردوبدل کیا ہے ۔ابتدائی حلقہ بندیوں میں سانگھڑ کی قومی اسمبلی کی ایک نشست کم ہوگئی سانگھڑ کی قومی اسمبلی کی نشستیں 3 سے کم ہوکر 2 رہ گئیں۔ابتدائی حلقہ بندیوں میں کراچی ساﺅتھ کی قومی اسمبلی کی ایک نشست میں اضافہ ہوگیا۔کراچی ساﺅتھ کی قومی اسمبلی کی نشستیں 2 سے بڑھ کر 3 ہو گئیں۔


