بلوچستان کو گذشتہ چونسٹھ سال کا حساب دیا جائے،کبیر محمدشہی
اسلام آباد،سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر کبیرمحمد شہی نے کہاکہ سینیٹ کی سفارشات پر عمل کرنا یا نہ کرنا قومی اسمبلی کا صوابدید ہے،آئیں کے اس آرٹیکل کو ختم کیا جائے یہ سینیٹ سے متصادم ہے،بلوچستان کو گذشتہ چونسٹھ سال کا حساب دیا جائے،اٹھارویں ترمیم تو اب آئی ہے سقوط ڈھاکہ تو اس سے پہلے کا تھا،بلوچستان کے لوگوں کو چودہ سال سے نوکریوں پرمستقل نہیں کیا جارہا،ریکوڈک کا معاہدہ کس نے کیا اب کہا جارہا ریکوڈک کا جرمانہ اربوں روپے ادا کرنا ہو گا،ریکوڈک منصوبے کا معاہدہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی،سی پیک کے حوالے سے ایک پروجیکٹ بھی نہیں ہے وزرار ایوان میں ہیں ان کی سنجیدگی دیکھ لیں،آغاز حقوق بلوچستان کے حوالے سے بل ایوان میں لا رہے ہیں پھر دیکھتے ہیں کون ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا چھ فی ملازمتوں کا کوٹہ جعلی ڈومیسائل سے بھر جاتا ہے،بلوچستان کے کوٹے سے اسلام اباد کے لوگ بھرتی ہو جاتے ہیں سینیٹر میر کبیر محمد شہی،ایف بی آر میں ایک ہزار ارب روپے کرپشن ہوئی نیب نے کتنے لوگوں گرفتار کیا؟۔ اجلاس کے دور ان بی اے پی سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے بتایاکہ سینیٹر کہدہ بابر احتجاجاً ایوان میں نہیں آرہے،سینیٹر کہدہ بابر نے ایف بی آر کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا،سینیٹر کہدہ بابر نے ایف بی آر پالیسی کا اجلاس نہ بلانے پر احتجاج کیاتھا، اور مطالبہ کیا تھاکہ ایف بی آر حکام کی غیر سنجیدگی پر معاملہ استحقاق کمیٹی بھیجا جائے،وفاقی وزیر اعظم سواتی کے مطابق ایف بی آر میں ایک ہزار ارب روپے کی کرپش ہوتی ہے،وفاقی وزیر کا ایف بی آر سے متعلق انکشاف کے بعد کیس نیب بھیجا جائے،چیئر مین سینٹ نے کہاکہ چیئرپرسن ایف بی آر کے معاملے پر ان چیمبر جائزہ لونگا۔


