قانونی ماہرین کا گرین سگنل ،نواز شریف لندن سے روانہ

لندن (این این آئی)سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف نے جمعہ کو اپنے دفتر میں وطن واپسی سے قبل آخری ملاقاتیں کیں۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ مریم اورنگزیب سمیت دیگر خواتین کا لندن میں گھیرا ?کیا گیا، یہاں پاکستانیوں کے مظاہروں کا چار سال میں کیا فائدہ ہوا ہے؟ مظاہرہ کرنا ہے تو پاکستان جاکر کریں۔نواز شریف نے کہا کہ معاشرے میں صحافت کا اہم کردار ہے، عوام صحافیوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں، غیبت، چغلی اور بہتان بازی سے صحافیوں کو پرہیز کرنا چاہیے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کو منظور ہوا تونواز شریف 21اکتوبر کو پاکستان آئیں گے اس لئے یہ سوال اب بار بار نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ آ رہے ہیں کہ نہیں آرہے یہ بات ختم ہو جانی چاہیے ،نواز شریف کی وطن واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹیں حائل نہیں ، ہماری لیگل ٹیم نے انہیں آنے کے لئے کہہ دیا ہے وہ قانون کا سامنا کرنے کے لئے ہر جگہ پیش ہوں گے ،2013اور2018میں عوام نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر ووٹ دیا ،ووٹ کو عزت دو کا مطلب ہے ووٹروں کی خدمت کرو، وطن واپسی سے قبل نواز شریف کی سعودی عرب روانگی کی تفصیلات کا علم نہیں لیکن گمان ہے وطن واپسی سے قبل انہوںنے اللہ کے گھر میں حاضری دینی ہو گی جہاں وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی دعائیں کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی وطن واپسی بارے حتمی انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں عدالتی معاملات میں بھی پیش رفت شروع کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ وکیل امجد پرویز نے رجسٹرار آفس میں میڈیکل رپورٹ جمع کرائی،رپورٹ میں کہا گیاہے کہ نوازشریف کو ابھی بھی دل کے عارضے کے مسائل ہیں،شوگر اور دیگرمعاملات پر ابھی فالواپ کی ضرورت ہے۔نوازشریف کو کورونا اور انجائنا کے باعث پاکستان آ نے سے روک دیا تھا،نوازشریف کو لندن اور پاکستان میں ابھی بھی فالو اپ کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کی بائی پاس سرجری اور انجیو پلاسٹی کے سبب نواز شریف کا مسلسل چیک اپ کیا، ہم نے نواز شریف کی پہلے اینٹی اینجنل تھراپی کی بہتری کے لیے علاج کیا، نواز شریف کو انجائنا علامات اور کورونا کی وجہ سے پاکستان جانے سے روک دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں