علی مردان ڈومکی کے افغانوں سے متعلق ریمارکس اشرافیہ کی مخصوصی ریاستی بولی کے مترادف ہیں، اے این پی

چمن (یو این اے) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے نگران وزیراعلی مردان علی ڈومکی کی دورہ چمن کے دوران افغانوں سے متعلق ریمارکس کو (چھوٹا منہ بڑی بات)پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں افغانوں کے علاہ بہت سے دوسرے بولی بولنے والے کروڑوں مہاجر آباد ہیں ایرانی مہاجر بنگالی مہاجر بہاری مہاجر کشمیری مہاجر ہندوستانی مہاجر نہ صرف ان گنت تعداد میں موجود ہے بلکہ کئی ایک تو ریاست کے اعلی عہدوں پر بھی براجمان ہے دورہ چمن کے دوران حکمران اشرافیہ کی ریاستی بولی اپنی جگہ وہاں تو (شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار)ضلع چمن میں نام نہاد غیر فطری سہ فریقی اتحاد کی سرکار اور ریاست کی ہاں میں ہاں ملانا افغان دشمن پشتون دشمن عمل ہے اور اسے ان قوتوں کی افغانوں سے متعلق دہرے طرزعمل کی عکاسی ہوتی ہے ماضی میں قوم پرست جماعت کے چمن میں مئیر شپ کے دوران باب دوستی کی بنیاد جو دراصل باب دشمنی کی بنیاد ہے تعمیر کروائی گئی 2013سے 2018 کے دوران ڈیورنڈ لائن پر خندقیں کھودنے خاردار تار بچھانے اور کوئٹہ میں ڈی ایچ اے کو پشتونوں کے ابا واجداد کی قیمتی زمین کو چند فائلوں(پلاٹوں) کے عوض کوڑیوں کے دام بیچنے کے ساتھ ساتھ سہ فریقی اتحاد کی ماضی قریب میں چمن کے دو صوبائی اسمبلی کے حلقوں کو مختلف فورمز پر چیلنج کرکے ایک حلقے میں بدلنے جیسے عوام دشمن عملیات پشتونوں کو بخوبی یاد ہے عوامی نیشنل پارٹی دیگر قوم دوست جماعتوں پشتون خواملی عوامی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ ملکر چمن شہر میں جمعرات 12۔ اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے غیرمنصفانہ حلقہ بندیوں میں پشتونوں بالخصوص چمن کے عوام کیساتھ کی گئی حق تلفی وناانصافی، ملک بھر میں افغان کڈوال کے ساتھ حکمرانوں کی توھین آمیز تذلیل وتضحیک آمیز چلن، بارڈر کی بندش آمدورفت میں حائل رکاوٹوں، چمن میں درپیش سنگین قومی معاشی مسائل، چمن میں نام نہاد غیر فطری سہ فریقی اتحاد کی قوم دشمن افغان دشمن طرز عمل ان کی چھپ سادھ و مجرمانہ خاموشی سرکار وریاست کے ساتھ گٹھ جوڑ ،مسلط کردہ دہشت گردی وانتہاپسندی، واپڈا حکام کی جانب سے بھاری بھر کم جرمانوں، بے تحاشا مہنگائی بے روزگاری، نادار کی جانب سے شناختی کارڈز کے اجرا میں لیت لعل سے کام لینے کے خلاف بھر پور احتجاج کریگی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے نگران وزیر اعلی کی دورہ چمن کے دوران چمن بارڈر کی بندش آمدورفت میں حائل رکاوٹوں افغان کڈوال کے متعلق توھین امیز ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت اسے سستی شہرت اور اپنے مینڈیٹ سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ریاستی اداروں کی جانب سے افغانوں کے ساتھ روا رکھا جانیوالا سلوک غیر انسانی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے غیر ملکیوں کے حوالے سے صرف افغانوں کو ٹارگٹ کرنا ایک قوم سے متعلق حکمران اشرافیہ کی منفی ذہنیت بغض اور نفرت کا اظہار عیاں ہوتا ہے گرچہ ملک میں ایرانی مہاجر بنگالی مہاجر بہاری مہاجر کشمیری مہاجر کروڑوں کے حساب سے نہ صرف قیام پذیر ہے بلکہ ان گنت تو ریاست اور ملک کے بڑے بڑے ریاستی عہدوں پر بھی براجمان ہے انہوں نے کہا کہ آج چمن میں حکمران اشرافیہ ریاست اور ریاستی آلہ کاروں کے ساتھ ساتھ چمن میں نام نہاد غیر فطری سہ فریقی اتحاد کے رہنماں کی ریاست کے ہاں میں ہاں ملانے سے ان کی افغانوں سے متعلق ذہنی فطور ابھر کر سامنے آیا ایک نام نہاد قوم پرست جماعت کے مختلف ادوار میں چمن باب دوستی،بارڈر پر خاردارتار بچھانے، یاپھر کوئٹہ میں پشتونوں کے ابا واجداد کی ہزاروں ایکڑ پر مشتمل قیمتی زمین ڈی ایچ اے کے نام چند فائلوں(پلاٹوں)کے عوض گروی رکھنا تھا پشتونوں کو یہ سب کچھ اچھی طرح یاد ہے آج چمن میں وزیر اعلی اور دیگر ریاستی حکام کے ساتھ میٹنگ میں ان کی چھپ سادھ مجرمانہ خاموشی افغان دشمنی کی سب سے بڑی ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ سہ فریقی اتحاد کی اس دوغلا پن قوم دشمن افغان دشمن طرز عمل سے پشتون افغان بخوبی واقف ہوچکے جمعرات 12۔اکتوبر کو عوامی نیشنل پارٹی پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے زیر اہتمام چمن میں ان قوم دشمن عملیات کے بر خلاف عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوگا چمن کے غیور اولس سے بھر پور شرکت کی اپیل کرتا ہوں

اپنا تبصرہ بھیجیں