یونیورسٹی کو کاروبارکی طرح منافع کیلئے چلانا دانشمندی نہیں، فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے، مولانا ہدایت الرحمن

کوئٹہ( این این آئی) جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری حق دوتحریک کے قائدمولاناہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے فیسوں میں تین سال کے دوران تین گنا سے زائد اضافہ کی وجہ سے تعلیم کے دروازے غریب طالبات کے لئے بند ہوچکے ہیں یونیورسٹی کوکاروبارکی طرح منافع کیلئے چلانادانشمندی نہیں۔بلوچستان کوسازش کے تحت ناخواندگی وجہالت،غربت کی طرف دکھیلنابلوچستان دشمنی ہے ہم اس ظلم وسازش کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔وائس چانسلریونیورسٹی کوتباہ،طالبات پرتعلیم کے دروازے بندکرناچاہتے ہیں۔ پٹرول کے قیمتوں کی طرح وائس چانسلر شاہی حکمنامہ کے تحت آئے روز فیس میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کرکے طالبات اور ان کے والدین کو کرب میں مبتلا کرتی ہے وائس چانسلر کی ڈیپوٹیشن تین ستمبر کو ختم ہوچکی ہے اب کسی بھی نوٹیفکیشن کے بغیر غیر قانونی طورپر براجمان ہے وہ اتنی بااثر ہیں کہ نہ گورنر اس کا نوٹس لیتا ہے نہ وزیراعلی اور نہ ہی ہائیر ایجوکیشن کمیشن، اسی ادارے نے اسی وائس چانسلر کے زیرسرپرستی محکمہ تعلیم کے اسامیوں پر تعیناتی کا ٹھیکہ لیا جو دنیا کے اندر ایک انوکھا مثال ہے اور اس بھرتیوں کے ٹیسٹ میں غضب کرپشن ہوئی جو تا حال عدالت نے روکا ہوا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ وائس چانسلر نے غیر ضروری اور غیر ترقیاتی اخراجات اتنے بڑھائے ہیں کہ اب یونیورسٹی چل نہیں پارہی تین سالوں کے دوران ایک سمسٹر کا فیس نو ہزار سے بڑھاکر 33ہزار کردیے ہیں اور گزشتہ روز فیس مزید بڑھادی گئی تو طالبات نے احتجاج کیاتووی سی نے یونیورسٹی کے گیٹ بند کرکے پولیس بلائی طالبات کو حراساں کیا گیا جو قابل مذمت عمل ہے۔ فیسوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن فوری طورپر واپس لیا جائے غیر قانونی طورپر براجمان وائس چانسلر کے تمام احکامات منسوخ کرکے ان کو فوری طورپر فارغ کیا جائے اور نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کرکے فیسوں میں خاطر خواہ کمی کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں