بلوچستان ہائیکورٹ میں واپڈا ہائیڈرو یونین کی دائر درخواست پر سماعت، تبادلوں کو معطل کردیا

کوئٹہ( این این آئی) آل پاکستان واپڈاہائیڈروالیکٹرک ورکرز یونین(سی بی اے) بلوچستان کی پٹیشن پر نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے معزز ممبر عبدالغنی مینگل نے کیسکو انتظامیہ اور سی بی اے یونین کے مابین صنعتی تنازعے اور یونین کی طرف سے ہڑتال کی کال کو روکنے کے پیش نظر کیسکو انتظامیہ کی طرف سے LM-I ، LM-II اور میٹر ریڈرز کے بڑے پیمانے پرکیے گئے تبادلوں کو معطل کرتے ہوئے اگلی سماعت 16اکتوبر2023ئ کومقرر کی ہے۔یونین نے آئین اور IRA-2012 کے قوانین کی خلاف ورزی اور مزدوروں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں درخواست دائر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یونین کی طرف سے 2005ئ سے اب تک عدالتوں میں بجلی چوری، ریکوری اہداف کے حصول میں ناکامی، 60فیصد سے زیادہ خالی پوسٹوں پربھرتیاں نہ ہونے، گاڑیوں کو افسروں کے زیر استعمال رکھ کر فیلڈ میں بکٹ گاڑیاں، کرین اور دیگر گاڑیوں کی فراہمی نہ کرنے، کارکنوں کی سیکورٹی کا انتظام نہ کرنے، کارکنوں سے 1886ئ کی طرز پر 12 سے 16 گھنٹے ڈیوٹیاں لینے، ہفتے اور اتوار کی چھٹیاں منسوخ کرنے، ورک کونسل میٹنگ بمورخہ02 ستمبر2023 کی منٹس جاری نہ کرنے، دوسری کمپنیوں سے غیرقانونی طور پر افسر بلا کر کارکنوں کو ایسے علاقوں میں تبدیل کرنے جہاں ان کی رہائش، کنوینس اور ان کی ضروریات کو نظرانداز کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو معاشی طور پر مزید تباہ کرنے،یونین کے آئینی و قانونی حقوق پر آواز بلند کرنے پر یونین رہنما?ں اور کارکنوں کے خلاف IRA-2012 کے سیکشن 79 میں استثنیٰ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے، انہیں سول ایڈمنسٹریشن کے دفاتر میں بلاکر ان کے جائز آئینی و قانونی حقوق کو نظرانداز کرنے، 200 افسروں اور 600 سے زیادہ اہلکاروں کے تبادلوں میں کیسکو کو ٹی اے/ڈی اے کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے اوران تبادلوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی اطلاعات پر کوئی کارروائی نہ کرنے سمیت دیگر مسائل کو اجاگر کیا ہے۔کیسکو انتظامیہ نے پٹیشن نمبر350/2011 میں عدالت عالیہ بلوچستان اورنیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے معزز ممبرکوئٹہ کے سابقہ فیصلے اور04 اکتوبر کے فیصلے کو نظراندازکرکے اور طاقت کا بلاجوازاستعمال کرکے مزدوروں کو خطرناک ڈیوٹی کے دوران مزید خطرات سے دوچار کیا ہے۔یونین موجودہ نگران حکومت کے نیشنل ایکشن پروگرام کے ساتھ پہلے دن سے کھڑی ہے اور مزدور بغیر کسی ہڑتال اور دھونس دھمکی کے اپنی ڈیوٹیاں ادا کرکے محنت و ایمانداری سے کام کررہے ہیں لیکن کیسکو کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر،پی پی ایم سی کے افسران اور پاور سیکریٹری کیسکو کے انجینئرز اور مزدوروں کو ایک طاقتورقومی ادارے کا خوف دلا کر اس سے متعلق نفرت پھیلارہے ہیںایسی صورت میں نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن کے روبرو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا آئین و قانون کا تقاضا ہے جس پر معزز ممبر نے سماعت شروع کی ہے اور دونوں فریقین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کریں جو کہ خوش آئند ہے۔یونین رہنما?ں محمدرمضان اچکزئی، عبدالحئی،عبدالباقی لہڑی، محمد یارعلیزئی،ملک محمد آصف اورسید آغا محمد نے مزدوروں پر زور دیا کہ وہ اینٹی تھیفٹ کیلئے قومی سطح پر کئے گئے فیصلوں کے مطابق محنت و ایمانداری سے کام کریں اور امید رکھیں کہ عدلیہ اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن مزدوروں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرے گی اور ملک کا طاقتورادارہ مزدوروں کے حقوق کی پامالی اور ان کوخوف میں رکھنے کا نوٹس لے گا اور مزدوروں کے کام کو سراہا کر انہیں مطمئن طریقے سے کام جاری رکھنے کیلئے حالات فراہم کرنے میں مددفراہم کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں