ایس بی کے یونیورسٹی کی فیس میں 9 ہزار روپے کے اضافے کا تاثر غلط اور بے بنیاد ہے، وائس چانسلر

کوئٹہ (این این آئی) سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر ساجدہ نورین نے یونیورسٹی سیمسٹر فیس میں نو ہزار روپے کے اضافے کے تاثر کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ درحقیقت فیس کی مد میں ٹرانسپورٹ چارجز لگائے گئے ہیں طالبات ٹرانسپورٹیشن کی مد میں فیس الگ سے جمع کرایا کرتی تھیں جسے یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کی سہولت کے پیش نظر ٹیوشن فیس کیساتھ جمع کرانے کی اجازت دی ہے،بعض عناصر نے معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے طالبات میں اضطرابی کیفیت پیدا کرکے انہیں احتجاج کے لیے اکسایا۔ یہ بات انہوںنے منگل کو سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی،اس موقع اسٹاف افسر حبیب مینگل ، ڈپٹی ایڈمن یونیورسٹی ضمیر احمد ، ایڈیشنل رجسٹرار نوید اللہ ، سینئر فیکلٹی ایڈمن ، عبدالخالق سیکورٹی ایڈمن ، اکا?نٹس افسر بابر ، ایڈمن سٹاف ، پروفیسرز سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ڈاکٹر ساجدہ نورین نے کہا کہ طالبات کی جانب سے الزام لگایا جارہا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے سیمسٹر فیس میں 9000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جو سراسر جھوٹ ہے درحقیقت فیس کی مد میں ٹرانسپورٹ چارجز لگائے ہیں طالبات ٹرانسپورٹیشن کی مد میں فیس الگ سے جمع کرایا کرتی تھیں جسے یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کی سہولت کے پیش نظر ٹیوشن فیس کے ساتھ جمع کرانے کی اجازت دی ہمارے پاس فنڈز کی مکمل تفصیلات موجود ہیں، پورے پاکستان میں یہ واحد یونیورسٹی ہے جس کی فیس سب سے کم ہے یونیورسٹی کی جانب سے بسوں میں طالبات کو ان کے گھروں کے باہر تک اتارا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبات کو سازشی عناصر کی جانب سے ٹیوشن فیس میں اضافے کے معاملے پر احتجاج کے لیے اکسایا گیا ، احتجاج میں آوٹ سائیڈرز کے ساتھ وہ طالبات بھی شامل تھیں جنہیں مختلف وجوہات کی بنائ پر یونیورسٹی سے ڈراپ کیا گیا جبکہ احتجاج کے دوران جامعہ کی املاک کو نقصان بھی پہنچایا گیا۔ طالبات کی جانب سے یونیورسٹی کے دروازے کو توڑا اور سکیورٹی گارڈز پر تشدد بھی کیا گیا جس کے بعدادارے کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی گئیں جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں ،واقعے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور احتجاج کرنے والی طالبات کی کیمرہ ریکارڈینگ نکال کر تحقیقات کی گئی ان طالبات کو یونیورسٹی سے ریسٹیکیٹ کردیا جائے گا جبکہ وہ طالبات جو یونیورسٹی کے ہاسٹل سے آئی تھیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ادارے میں ٹیچرز بیرون ہر ممالک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئی ہیں ، فیکلٹی اور ایڈمن برانچز کی 14 سال سے پرموشن روکی گئی تھیں ان کے آنے کے بعد ان کو پر موشن دی گئی جبکہ ٹیچرز کو 35 فیصد الاونس الگ سے دیا جارہا ہے یونیورسٹی کی طالبات کو سالانہ اسکالرشپس دی جاتی ہیں اس کے ساتھ 50 فیصد طالبات ایسی ہیں جو غریب کوٹہ کے تحت یہاں تعلیم حاصل کررہی ہیں ، طالبات کے لیے ہاسٹل کی سہولت موجود ہے جہاں 700 کے قریب طالبات رہتی ہیں جنہیں تمام سہولیات دی جارہی ہیں ایسے میں ادارے پر بے بنیاد الزامات لگاکر بدنام کرنا سراسر غلط اور ناانصافی ہے۔ ایڈیشنل رجسٹرار نوید اللہ نے کہا کہ حکومتی احکامات کے مطابق فیس میں ہر سال 3 فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے مگر گزشتہ تین سال میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ اس سال نئے آنے والی طالبات کی فیس میں 3 فیصد کے حساب سے 544 روپے اضافہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں