زراعت تباہ ہے، گزشتہ برس سے اب تک بجلی کے بل معاف کیے جائیں، زمیندار ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (آن لائن)سیلاب متاثرین زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے رہنماں صابر صالح کاکڑ، حاجی پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ تباہ حال زمینداروں کی مدد کے لئے حکومت فوری طور پر ہمارے مطالبات پر عمل کرتے ہوئے کسان کارڈ اجراکرکے 80 فیصد ریلیف کے ذریعے کھاد، ڈیلز، سولر پینل اور دیگر سہولیات دیتے ہوئے گزشتہ برس سے اب تک بجلی کے بل معاف کئے جائیں اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو 29 اکتوبر کو کوئٹہ ، ڑوب قومی شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار بدھ کو کوکوئٹہ پریس کلب میں حاجی رحمت اللہ کاکڑ، ملک جلات خان، حبیب اللہ خان، حاجی عابد عالم، امیر حمزہ بازائی، گل زمان، سراج خنائی بابا، سیف افغان، آغا محمد ، حاجی اشفاق ، ملک امان اللہ غبرگئی، حاجی عبدالہادی ، صبور کاکڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے زمینداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ٹیوب ویلز، سولر پینلز اور فصلات تباہ ہوگئے ہیں جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود سیلاب متاثرہ زمیندار آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں متاثرہ زمینداروں کا تمام اعداد و شمار پی ڈی ایم ا ے پشین کے پاس موجود ہے جس کی انہوں نے باقاعدہ تصدیق بھی کی ہے لیکن انہیں ریلیف دینے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا جس کی وجہ سے معاملات جوں کے توں ہے زمیندار نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں اور اب واپڈا کی جانب سے طویل لوڈ شیڈنگ کرکے ان کی فصلات اور باغات کو خشک کیا جارہا ہے اور واپڈا اہلکار بل کی عدم ادائیگی پر ٹرانسفارمر اٹھاتے ہیں انہوں نے بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عہدیداران اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کام کرتے ہیں جبکہ متاثرین اور اجتماعی کاموں سے گریز کرتے ہیں اس لئے ہم اپنے مطالبات کے حصول کے لئے کیسکو چیف سے 13 اکتوبر کو ملاقات کریں گے اور 15 اکتوبر سے صوبے میں ہکلی وال بلنہ مہم شروع کریں گے تاکہ زمینداروں کو منظم کرکے 29 اکتوبر کو کوئٹہ ڑوب شاہراہ کو بلاک کریں گے زرعی زمینوں پر قبضے کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں