برطانیہ میں فلسطینی پرچم لہرانے اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ممنوع قرار
لندن(صباح نیوز)برطانیہ فلسطینی پرچم لہرانے اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ممنوع قرار دے رہا ہے۔برطانوی وزارت داخلہ نے پولیس سربراہان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ آیا فلسطینی پرچم لہرانا جرم ہو سکتا ہے کیوں کہ سینیئر شخصیات کی جانب سے فلسطینی حماس کی حمایت کرنے والے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔منگل کو ایک خط میں برطانیہ کی وزیر داخلہ سویلا بریورمین نے پولیس فورسز پر زور دیا کہ وہ حماس کے جھنڈے یا لوگو یا فلسطینی عسکریت پسند گروپ کی حمایت میں ہونے والے دیگر مظاہروں کے متعلق چوکس رہیں۔تاہم بریورمین نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر غور کرے کہ فلسطینی پرچم لہرائے جانے اور اسرائیل مخالف نعرے لگانے میں ہراساں کرنے یا اکسانے کے جرائم کا ارتکاب تو نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ ایسے رویے جو بعض معاملات میں درست ہیں، مثال کے طور پر فلسطینی پرچم لہرانا، اس وقت درست نہیں جب ان کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہو۔انہوں نے پولیس سے کہا کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ کیا دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہوگا جیسے نعرے کو اسرائیل کو دنیا سے مٹانے کی شدید خواہش کے اظہار کے طور پر سمجھنا چاہیے اور یہ امن عامہ کی خلاف ورزی ہے۔ان کا یہ بیان برطانوی وزیراعظم رشی سونک کے اس عزم کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا کہ برطانیہ میں حماس کی دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائیوں کے تناظر میں اس کی حمایت کرنے والے کسی بھی شخص کا احتساب کیا جائے گا۔


