وفاقی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے،میر علی مدد جتک
کوئٹہ:پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر میر علی مدد جتک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہیں ، وفاقی پی ایس ڈی پی میںبلوچستان کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے ، پی پی پی کے دور حکومت میں بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگیا تھا ، ملازمین کے تنخواہوں میں50فیصداضا فہ اور بلوچستان پیکیج کے تحت 5ہزار بے روزگار نوجوانوںکو روزگار فراہم کیا گیا ،اپوزیشن جماعتیں اب وفاقی حکومت کے خاتمے تک اپنا کردار ادا کرے گی کیونکہ یہ جمہوری حکومت نہیں ہے ،جمہوری حکومتوںمیںملک اور قوم کے مفادمیںفیصلے ہوتے ہیں،طلبا ء کی گرفتاری کی مذمت کر تے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنی رہائش گاہ پر پارٹی عہدیداروںسے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوںمیں15فیصد اضافہ کیا تاہم وفاقی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میںنہیں، وزیراعظم کی تنخواہ میں اضافہ کرتے ہوئے 2لاکھ سے بڑا کر 8لاکھ روپے کردیا ہے میری نظر میںیہ جمہوری وزیراعظم ہے اور نہ ہی عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں جب عام انتخابات میں کوئی پارٹی عوام کے ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوتی ہیںتو وہ سب سے پہلے عوام کے مفادمیں کام کرتی ہیں مگر یہ وہ حکومت ہے جس نے عوام کے ساتھ وعدے تو بہت کئے تھے مگر ایک بھی وعدہ وفا نہیں کرسکے ۔50لاکھ افراد کو روزگار دینے والوں کو روزگار کی بجائے اسٹیل مل سے ساڑھے 9ہزار ملازمین کو نکال دیا گیا ہے کیا یہ جمہوری حکومت ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 2008کے انتخابات کے بعد عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدو ںکو پورا کیا ۔ سابق ڈکٹیٹرمشرف کے دور میں ہونے والے زیادتیوں پر معافی مانگ کر بلوچستان کیساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا ۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت اربوں روپے فنڈز دے کر بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا ۔انہوں نے کو ئٹہ میں آن لا ئن کلا سز کے خلا ف مظا ہرہ کر نے والے طلبا ء کی گرفتاری کا مطا لبہ کیا اور مطالبہ کیا کہ گرفتار طلبا ء کو فوری رہا کیا جا ئے ۔


