وڈھ میں ایک بھائی ڈیتھ اسکواڈ کی سربراہی، دوسرا سیاسی لبادے میں حکومتوں کو بلیک میل کررہا ہے، میر شفیق الرحمن
خضدار (بیورو رپورٹ) جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا ہے کہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بلوچستان بالخصوص وڈھ کے حالات کئی دہائیوں سے آپ کے سامنے خصوصاً گزشتہ چار ماہ سے وڈھ میں جو بدامنی ہوئی قتل و غارت گری ہوئی انڈین ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں جو لشکر کشی کی گئی وڈھ کے مظلوم عوام کے خلاف وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لشکر کشی جو ہوئی سو ہوئی ایپکس کمیٹی نے فیصلہ کیا، ہمارے بھی کچھ اعتراضات ایپکس کمیٹی میں ہیں ہمارے بھی کچھ مطالبات تھے۔ ہمارا پر زور مطالبہ تھا کہ وڈھ جو تخریب کاری کا مرکز بنا ہوا ہے وہاں لاتعداد پاکستانی بم بلاسٹ اور ٹارگٹ کلنگ میں جاں بحق ہوئے، ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، مزدور، ہزارہ ربرادری کے لوگ، قومیت اور عصبیت کی بنیاد پر تمام اقوام کے لوگ شامل ہیں، اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جو پاکستان کی سالمیت کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں ان کے افسران اور سول سوسائٹی کے لوگ بھی جاں بحق ہوئے ہیں وہاں معصوم پاکستانیوں کی جان کی حفاظت کی جائے۔ وڈھ میں یہ گروہ لینڈ مافیا کے طور پر پورے خضدار لسبیلہ حب اور کراچی نادرن بائی پاس کام کرتا رہا ہے ان کا کام ہی دہشت گردی پھیلانا لینڈ مافیا منشیات کا کاروبارکررہے ہیں۔ دوہزار پانچ میں لوگوں کی جائیداد وڈھ بازار میں قبضہ کیا اسی طریقے سے وڈھ سب تحصیل آڑنجی سب تحصیل سارونہ یہاں کے غریب جو مینگل قبائل ہیں ہر شاخ کوئی بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں جان ومال کے حوالے سے زمین کے حوالے قتل عام کے حوالے سے آپ دیکھیں کسی مینگل قبیلے کے طائفے کو معاف نہیں کیا جائیدادوں پر قبضہ کیا ہم نے اپیکس کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ مملکت خدائیداد ہمارے عظیم ملک کے جو قوانین رائج ہیں عدالتیں ہیں جو ریونیو رکارڈ ہے اس کے علاوہ ہمارے بلوچ قوم کے رسم و روج ہیں ہر طریقے سے شرعی حوالے قرآن و سنت ہماری بنیاد ہیں اس کی روشنی میں حکومت تحقیق کرے قبائلی عمائدین کو جرگوں میں بٹھائے لوگوں کی زمینوں کو اس قبضہ گروپ سے واگزار کرے تو اپیکس کمیٹی اس پر خاموش رہی کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہمارے یہ مطالبات تھے کمیٹی نے ایک درمیانی راستہ نکالا وڈھ کے مظلوم عوام کے خاطرکہ 18جون سے پہلے کی پوزیشن پر دس سال سے تھے وہ وہی چلے جائے ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے وہ را کے کاسہ لیس اور ایجنٹ ہونگے جو پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں ایک بھائی ڈیٹھ اسکواڈ چلارہا ہے دوسرا بھائی ادھر مکروہ اور دو نمبر سیاسی لبادے میں اپنے آپ کو لپیٹ کر ان ڈیتھ اسکواڈ کے لئے بھرتی کا کام کررہے ہیں حکومتوں کو بلیک میل کر کے اپنی من مانیاں کررہا ہے آپ سب سے یہ ڈھکی چھپی نہیں ہے حکومتوں کو بلیک میل کرکے مسنگ پرسن کا رونا روکر مسنگ پرسن کا زمہ دار یہ خو د ہے، قتل عام کا ذمہ دار بھی خود یہی ہے، خضدار میں آزادی چوک،سیرت چوک پر اس کی مشتعل تقریریں موجود ہیں کہ مسلمان بھائیوں کو گوادرمیں یہودی قرار دیا اسی طرح دوسرے پاکستانیوں کے خلاف نفرت پھیلانا اور ان کا قتل عام کرانا اور خود جاکے یہ بہت ہی سنجیدہ بات ہے، اکثر یہ ڈیتھ اسکواڈ کرتادھرتا ناراض ہوجاتا ہے لوگوں کی سچ بات کرنے سے،خود جاکر جو رشتہ داریاں کرلی مسلم لیگ ق کے زمانے میں ہمارے لئے تمام اقوام قابل احترام ہیں کوئی بھی پاکستانی ہو جو پاکستان سے محبت کرتا ہے وہ ہمارے لئے قابل احترام ہے ہمارے بھائی ہیں سیاسی اختلاف اپنی جگہ پر ہیں یہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے مسلم لیگ ق کو کس کس نام سے پکارتے تھے اور جنرل مشرف کے ساتھیوں اور اس سے کتنا نفرت کرتے تھے اور یہاں ڈاکٹر فہیم کو پنجابی ہونے کے ناطے قتل کرواتے ہیں پروفیسر عاشق عثمان جو محسن خضدار تھے تعلیم کے حوالے سے انکی خدمات قابل تحسین ہیں ان کو قتل کراتے ہیں ہمارے لوگوں کو قتل کراتے ہیں کہ پاکستان کا نام کیوں لیتے ہو پورے بلوچستان میں لوگوں کو ورغلاکر نوشکی میں مسجد تعمیر کرنے والے مزدوروں کو قتل کرواتے ہیں خواتین کو بھی معاف نہیں کرتے، پروفیسر نا ظمہ طالب،پرو وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی ان کو قتل کیا جاتاہے بلو شفیق احمد خان ایک وزیر ہونے کے علاوہ پی پی کے سنیئر رکن اور دنیا جانتی ہے کہ وہ ایک نامور سماجی شخصیت بھی تھے اور کوئٹہ میں ہمدرد اور درد دل رکھنے والے پاکستانی تھا کو بھی قتل کردیتے ہیں خود نہ صرف پنجابی ہمارے بھائی ہیں نہ سرائیکی،پختونوں کو معاف نہیں کیا، مستونگ میں کوچوں سے اتار اتار کر ان کا قتل عام کیا کسی قبیلے کو انہوں نے معاف نہیں کیا نہ مینگل قبیلے کو تو انہوں نے نسل در نسل قتل عام کیا تاریخ گواہ ہے یہ سورج کو انگلی میں چھپا نہیں سکتے بزنجو،زہری قبیلے اور میر غوث بخش بزنجو کے ساتھ کیا کیا سردار دودا خان کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا ان کو آپس میں لڑایا پھر واپس ابھی نواب ثناءاللہ کے انکو کزنز کے ساتھ لڑوایا اور خود لطف لے رہے ہیں اور لاشوں پہ سیاست کرنا ان کا وتیرہ رہا ہے۔ ہم بلوچستان کے مظلوم لوگ،ہم نے ان کے ظلم کے خلاف اور دیگر ان کے انڈین دیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے خلاف علم بغاوت بلند کی، پاکستانیت کی بنیاد پر سبز ہلالی پرچم کو تھام کے ہم نے اپنا خود دیا اور پرچم کو گرنے نہ دیا الحمداللہ اس کی لاج رکھی اور اس میں ہمارے سینکڑوں ساتھیوں کا خون شامل ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ چار مہینے سے وڈھ کے مظلوم عوام پر لشکر کشی کی دنیا گواہ ہے، میں دعوت دیتا ہوں اپنی آنکھیں کھول کر آئیں وڈھ میں تحقیقات کریں کہ وڈھ میں لشکر کشی کس نے کی بلاشبہ لشکر کشی اس انڈین ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ نے کی معاملہ ایک بزرگ شخصیت خدابخش کو آٹھ مہینے پہلے اغوا کروادیا تھا اور بسر الدین کے ساتھ کئی لوگوں کو،یہاں کے مظلوم عوام شہباز شریف کا دور تھا تھانوں میں گئی ڈپٹی کمشنر اور عدالتوں میں گئی لیکن چونکہ وہ حکومت کے اتحادی تھے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کے ہاتھ میں تھیں افسران کو اس نے پوسٹنگ کروایا تھا سب نے مظلوم عوام کی کوئی بات نہ سنی ان کے درخواستوں کو ردی کو ٹکڑا سمجھ کرٹوکریوں میں پھینک دیا اور رپورٹیں لکھی کہ ان کے پاس کوئی نہیں ہے مجبورا یہاں کے غیرت مند مظلوم عوام نے رد عمل اور مزاحمت کے طور پر ان ظالموں کے خلاف اٹھے اور اغواءکاروں کے چنگل سے آزاد کرایااس معاملے کو دودن گزرنے کے بعد یہ لشکر آنا فانا چھڑ دوڑے باڈڑی پر جو ہم فخر سے کہتے ہیں وڈھ میں پاکستان کا قلعہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنے سیاسی فکری جدوجہد کے سامنے بھارتی کاسہ لیسوں کے سامنے سر نہیں جھکایا، باڈری کے اس غیرت مند عوام نے پورے وڈھ میں کبھی سر نہیں جھکایا انہوں نے میرے گھر پر اور باقی گھروں پر شیلنگ کی مارٹر کے گولے داغے، انہوں نے مظلوم عوام کی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، قتل عام کی کوشش کی اور ہر طرف سے ناکہ بندی کی، ہر راستے کو بند کرنے کی کوشش کی، جب ایپکس کمیٹی کا یہ فیصلہ ہوا کہ ہزاروں افراد اس سے متاثر تھے، ہزاروں لوگ وڈھ سے نقل مکانی کی، لوگوں کا راشن پانی بند تھا، تعلیمی ادارے بند تھے تو ایپکس کمیٹی کا جو کہ ہمارے مطالبات نہیں مانے، انہوں نے اپنا فیصلہ کیا لیکن وڈھ کے عوام کے مفاد میں ہم نے اس فیصلے کو تسلیم کیا ہم اپنی فورسز اور حکومت سے نہیں لڑ سکتے پاکستان کے وہ محافظ ہیں عوا م کے وہ محافظ ہیں ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ کی سیاست دفن ہوچکی ہے، اس کا مکروہ چہرہ فاشسٹ گروہ کا بد نما چہرہ سب کے سامنے عیاں ہوچکا ہے، سابقہ حکومتوں میں انہو ں مراعات لئے ہیں جو انہوں نے اربوں روپے کے فنڈ لیئے ہیں اسکیموں کے ذریعے پیسے ہڑپ کئے ہیں جس طرح پی ڈی ایم کے ایوانوں میں بھی بیٹھ کر غلط بیانیاں کرتے رہے اور جس قوم پرستی کا لبادہ انہوں نے اوڑھا ہوا تھا چند وزارتوں کی خاطر مسنگ پرسنز کا سودا کیا اور بلوچستان کی عوام اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور پہلے بھی انہوں نے لشکر کشی کی اپنے سیاسی مخالفوں کے قتل عا م کیا 2018 میں انہوں نے منصوبہ بندی کرکے 10سیٹیں حاصل کی یہ مگر مچھ کے آنسوں بہاکر یہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے وڈ ھ میں ہم نے ان کا زبر دست مقابلہ کیا انہیں جب اپنی شکست نظر آئی۔ میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا کہ جب انہیں اپنی شکست آئندہ انتخابات میں دیکھتے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ کے سربرا ہ تشدد اور قتل عام کا راستہ اپنایا تاکہ آئندہ انتخابات میں ہمارا راستہ روکا جاسکے اسی شکست کو دیکھتے ہوئے اب انہوں نے ایک اور گمراہ اور قاتل مارچ کا اعلان کیا ہے جیسے 2006 میں گوادر سے ایک مارچ کا اعلان کیا تھا جب ان کی مارچ ناکام ہوئی تو ان دونوں ڈیتھ اسکواڈ کے بھائیوں نے مارچ کا نام لشکر بلوچستان رکھا جس کے بعد خون کی ہولی کھیلی گئی اور سینکڑوں بے گناہ اور معصوم لوگ مارے گئے اور اس بار بھی ا ن کا یہی منصبوبہ بندی ہے جسے اب عوام کسی صورت قبول نہیں کریگی۔


