نوول کرونا وائرس منشیات کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، اقوام متحدہ
ویانا:نوول کرونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں زیادہ لوگ منشیات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بات جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہی گئی۔یو این او ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غدا ولے نے کہا کہ نوول کرونا وائرس کے بحران اور معاشی بدحالی کے باعث جب ہماری صحت اور معاشرتی نظام اپنے عروج پر ہیں اور معاشرے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں منشیات کے خطرات اور بھی بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈرگ اینڈ کرائم(یو این او ڈی سی)کی جانب سے جاری کردہ حالیہ عالمی منشیات رپورٹ کے مطابق 2018 میں دنیا بھر میں 26 کروڑ 90 لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے تھے جو 2009 سے 30 فیصد زیادہ ہے اور 3 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد منشیات کے استعمال کے باعث خرابی کا شکار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھنگ 2018 میں سے زیادہ استعمال ہونیوالا مادہ تھا جس کا استعمال اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 19 کروڑ 20 لاکھ افراد کرتے تھے۔ تاہم افیون سب سے زیادہ خطرناک رہا کیونکہ متعلقہ عوارض کی وجہ سے اموات کی تعداد گزشتہ دہائی کی نسبت 71 فیصد بڑھ چکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرحدی کنٹرول اور عالمی وبا سے وابستہ دیگر پابندیوں نے سڑکوں پر پہلے منشیات کی قلت پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ اور صفائی میں کمی ہوئی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ عالمی وبا کی وجہ سے افیون کی بھی قلت ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگ آسانی سے دستیاب مواد جیسے کہ الکوحل، بینزودیازپائن(ممنوعہ ادویات)یا مصنوعی ادویات سے بنی منشیات کی تلاش کر سکتے ہیں۔


