تربت میں مزدوروں کا قتل قابل مذمت ہے، بیرون صوبہ سے آنیوالوں کو تحفظ دیا جائیگا، علی مردان

تربت (آن لائن) نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا ہے کہ تربت میں مزدوروں کا قتل ایک تکلیف دہ عمل تھا انہوں نے کہا گزشتہ دنوں یہاں بے گناہ مزدوروں کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تربت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ روز وقوعہ یہاں آنا چاہتا تھا تاہم ضروری سمجھا کہ پہلے میتوں اور واقعہ میں زخمیوں دیگر مزدوروں اور ان کے لواحقین کو ان کے آبائی شہر بھیجوایا جائے پہلے روز ہم نے حکومت بلوچستان کے سرکاری جہاز کو زخمیوں اور جاں بحق ہونیوالوں کے ورثا کے ہمراہ ملتان بھیجا انہوں نے کہا کوئٹہ سے ہیلی کاپٹر پر مزدوروں کی میتیں ملتان بھیجوائی گئیں مجھ سمیت ہر فرد کے لئے بے گناہ مزدوروں کا قتل ایک تکلیف دہ واقعہ تھا انہوں نے کہا علاقے کے ایس پی کو روز اول میں نے معطل کردیا تھا مزدوروں کے قتل کے واقعہ کی جوائنٹ انویسٹیگیشن جاری ہے، نگران وزیراعلیٰ میر علی مردان خان ڈومکی نے مزید بتایا کہ آج اجلاس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور تربت واقعہ کی اب تک ہونے والی تحقیقات اور پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ہےاجلاس میں ہونے والے فیصلے اہم نوعیت کے ہیں جو قبل از وقت نہیں بتائے جاسکتے انہوں نے کہا واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اس گھناونے واقعہ میں ملوث عناصر اور ان کے معاونت کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو کوئی رعایت نہیں کی جائے گی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سیکورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ باہر سے آنے والے مزدوروں کا ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے روزگار کے لئے دور دراز علاقوں سے آنے والے ان مزدوروں کے تحفظ کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے میں بحالی امن اور عوام کے جانی و مالی تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں