بلوچستان بھر میں 2نومبر کو پہیہ جام ہڑتال کوکامیاب بنانے میں عوام تعاون کریں، زمیندار ایکشن کمیٹی

کوئٹہ(یو این اے )زمیندارایکشن کمیٹی کے زیراہتمام 2نومبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کوکامیاب بنایاجائے گا،زرعی فیڈرز پر بجلی کی فورس لوڈشیڈنگ ،حکومت بلوچستان کے توسط سے کیسکو کی تحریری معاہدے سے انحراف،قلعہ سیف اللہ میں زرعی ٹیکس کی غیرقانونی وصولی سمیت زمینداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت جدوجہد جاری رکھیں گے ،پہیہ جام ہڑتال کوکامیاب بنانے کیلئے صوبے کی عوام ،ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری ،سیاسی جماعتوں سے بھرپور تعاون کی اپیل ہے جبکہ مسافروں سے معذرت خواہ ہیں۔ان خیالات کااظہار زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیراحمدشاہوانی ،جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی ،سید عبدالقہارآغا، حاجی ولی محمدرئیسانی ،حاجی عبدالجبار کاکڑ، حاجی شیر علی مشوانی، کاظم خان اچکزئی، عبد اللہ جان میر زئی، حاجی عزیز سرپرہ، حاجی محمد افضل بنگلزئی، حاجی روزالدین کاکڑ،ملک منظور نوشیروانی، حاجی عبید اللہ پانیزئی، حاجی روز الدین کاکڑ، خالق داد، سید جبار آغا، ملک عبد المجید مشوانی، سید صدیق اللہ آغا،حاجی شوکت، حاجی محمد اقبال،ٹکری پار الدین،حاجی عبدالعزیز شاہوانی ،حاجی حیات کھڈ کوچہ، عزیز مغل قلات، منیر شاہوانی، محمدیعقوب رئیسانی سوراب،عید محمد کرد خضدار،مبارک علی بادینی، حاجی نبی بخش کرد، محمد اکبر، حاجی عبدالحلیم، حاجی سید خان مستونگ، سید نصیر الدین، سردار محمد نواز مشوانی، حاجی سیف اللہ، ملک محمد حسین کاکڑ،ملک رفیق سیلاچی، حاجی محمد عالم، حاجی فتح محمد بادینی، نجیب اللہ، محمد مراد، حاجی سیف اللہ، مقبول احمد رودینی، حاجی محمد اعظم، میر غلام عین مینگل، حاجی محمد امین بدوزئی ودیگر نے اپنے بیان میں کیا۔ زمیندار صوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن افسوس کہ انہی زمینداروں کو مختلف القابات سے نوازا جا رہا ہے سبسڈی کی مد میں وفاق و صوبہ مقروض لیکن بجلی بند کرکے زمینداروں کو تنگ کیا جاتا ہے۔زمیندار ایکشن کمیٹی کی جانب سے 8نکاتی مطالبات کیسکو حکام اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پیش کی گئی لیکن بجلی اب تک بحال نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے زمینداروں کو لاکھوں روپے کانقصان ہورہاہے، بحیثیت تنظیم زمیندار ایکشن کمیٹی ہر جماعت اور تنظیم جو زمینداروں کے حقوق کے حصول کیلئے احتجاج کرتے ہیں نہ صرف ہم اس عمل کو خوش آئند سمجھتے ہیں بلکہ ہم ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیڑھ ماہ سے بجلی کی بندش سے گرم علاقوں میں گندم کی بوائی نہیں ہوسکی جبکہ ٹھنڈ علاقوں میں گندم کی بوائی 15 نومبر تک ہوگی لیکن کیسکو بلخصوص وفاقی سیکرٹری انرجی کی ہٹ دھرمی قابل افسوس ہے، میڈیا کے دوستوں سے اپیل ہے کہ وہ زمینداروں کے نقصانات کی سروے کرے تاکہ حقائق سامنے آنے کے ساتھ بلوچستان کے زمینداروں کی مشکلات اجاگر ہوںزمینداروں کے مسئلے کے حل کیلئے زمیندار ایکشن کمیٹی نے احتجاجی تحریک شروع کردیا ہے اس سلسلے میں 2 نومبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہوگا ہڑتال میں کوئٹہ ،پشین ،قلعہ سیف اللہ ،قلعہ عبداللہ ،لورالائی ،زیارت، دکی ،ہرنائی ،سبی ،نوشکی،خاران ،آواران ،پنجگور،خضدار، لسبیلہ ،نصیرآباد،مستونگ، خانوزئی،کھڈکوچہ ،منگچر،قلات،تربت سمیت دیگر کے زمینداران ہڑتال کی کامیابی کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ،ہڑتال میں قومی شاہراہوں کوئٹہ چمن یارو کے مقام، کوئٹہ ڑوب خانوزئی، کوئٹہ سکھر شاہراہ، کوئٹہ کراچی شاہراہ لک پاس اور منگچر کے مقام پر بند کیا جائے گا زمیندارایکشن کمیٹی کاصوبے کی عوام، سیاسی، مذہبی و قوم پرست جماعتوں، وکلا تنظیموں، ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ اس احتجاجی تحریک میں شامل ہوں۔ اگر بجلی بحال نہیں ہوتی تو 3 نومبر کو زمیندار ایکشن کمیٹی کے ایگزیکٹوز کا اجلاس ہوگا جس میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ڈی چوک پر دھرنا سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گااس کے علاوہ 30اکتوبر کو زمیندار ایکشن کمیٹی کادوبارہ اجلاس ہوگا۔گزشتہ روزپشین میں پشتونخواملی عومی پارٹی اور زمیندار ایکشن کمیٹی کی گزشتہ روز مشترکہ میٹنگ ہوئی جس کی صدارت سردارامجد ترین نے کی ضلع قلعہ عبداللہ سے ڈپٹی سیکرٹری محمد اکبر کاکڑ، پشین سے سید شراف آغا، قلعہ عبداللہ سے زمیندار ایکشن کمیٹی کے حاجی عبدالجبار کاکڑاور پشین سے سیدعبدالقہار آغا موجود تھے میٹنگ میں 2نومبر کو پہیہ جام ہڑتال سے متعلق مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی اور 30اکتوبر کے اجلاس میں پشتونخواملی عوامی پارٹی اور تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شرکت کرینگے۔پشتونخواملی عوامی پارٹی نے زمیندار ایکشن کمیٹی کو احتجاج میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں