آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھنے کو تیار ہیں، روس

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) روس نے ایک بار پھر ایران کا اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم اپنے پاس محفوظ رکھنے کی پیشکش کردی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے دی ماسکو ٹائمز کے مطابق اسرائیل اور امریکا نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے تباہ کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم روس نے ایک نئی پیشکش کردی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تجویز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں پیش کی گئی تھی تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی منڈیوں بالخصوص توانائی اور تجارت کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں