شمالی عراق میں کرد جنگجوؤں سے جھڑپ کے دوران ترک فوجی ہلاک
ترکی کے وزارت دفاع نے بیان میں کہا ہے کہ شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے جھڑپ کے دوران ترک فوجی ہلاک ہوگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پی کے کے ترکی کے خلاف 1984 سے مسلح مہم جوئی کر رہا ہے، اس تنظیم کو انقرہ سمیت اس کے مغربی اتحادیوں کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
ترکی کا کہنا ہے کہ پی کے کے 3 دہائیوں سے جاری جنگ میں 40 ہزار افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ترکی کی جانب سے پی کے کے جنگجوؤں پر کرد جنوب مشرقی علاقوں اور شمالی عراق میں روزانہ حملے کیے جاتے ہیں۔
اس نے حالیہ برسوں میں عراق کے قندیل پہاڑوں میں پی کے کے کے اڈوں کے خلاف ممکنہ زمینی حملے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ فوجی مداخلتوں نے عراقی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔
تازہ حملوں کی وجہ سے عراق کی طرف سے احتجاج کیا جارہا ہے جس کے تحت بغداد میں ترک سفیر کو دو بار طلب کیا جاچکا ہے۔
شمالی عراق میں مقامی کرد عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تقریبا دو ہفتے قبل اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے کم از کم پانچ شہری مارے جاچکے ہیں۔
تاہم ترکی کا کہنا ہے کہ وہ پی کے کے کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کی فوج نے شہری ہلاکتوں اور سویلین اہداف پر حملوں سے بچنے کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق ہر کام کیا ہے۔
ترکی کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اتوار کے روز اس کی سکیورٹی فورسز نے شمالی عراق میں ایک پی کے کے جنگجو کو ’نیوٹرالائز‘ کردیا۔
قومی وزارت دفاع نے ٹویٹر پر کہا جنگجو کو فضائی حملے کی مدد سے چلنے والی ایک کارروائی میں زاپ میں نشانہ بنایا گیا۔


