امریکا اوراسرائیل کا شمالی غزہ میں روزانہ چار گھنٹے جنگ بندی پر اتفاق
واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل نے شمالی غزہ میں روزانہ 4 گھنٹے جنگ بندی پر اتفاق کرلیاہے ۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق وائٹ ہاو¿س سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ امریکا نے غزہ میں 3 دن کے سیز فائر کی تجویز دے دی، امریکہ نے کہا غزہ میں یہ وقفہ زیادہ ہونا چاہئے تاکہ یرغمالیوں کو باہر نکالا جا سکے، غزہ کے لوگوں کو 2 انسانی راہداریاں فراہم کی جائیں گی۔وائٹ ہاو¿س نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وقفوں کے دوران کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوگی، غزہ میں یہ وقفے درست سمت میں اہم اقدام ہیں۔قبل ازیں امریکہ کا کہناتھا کہ اسرائیل حماس جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اسرائیلی فوجیں غزہ میں ہی رہیں گی اور سیکیورٹی معاملات کی نگرانی کریں گی۔ وائٹ ہا ﺅ س کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فونک گفتگو میں غزہ میں 3 دن کےلیے جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے یقین دلایا کہ اس دوران حماس بھی کچھ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردے گی۔امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتایا کہ تمام یرغمالیوں کی شناخت کی تصدیق کے لیے جنگ میں 3 دن کا وقفہ ناگزیر ہے جس کے بعد یرغمالیوں کے ناموں کی فہرست فراہم کی جائے گی۔امریکی صدر نے یہ بات ان مذاکرات کے بعد کی جس میں امریکا اور قطر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور جس کے نتیجے میں 10 سے 15 یرغمالیوں کی مشروط رہائی پر اتفاق ہوا ہے۔قبل ازیں وائٹ ہاو¿س حکام نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوجیں غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے بعد بھی غزہ میں سیکیورٹی معاملات کو سنبھالنے کے لیے موجود رہیں گی۔ امریکا کے پاس فی الحال غزہ کے مستقبل کا کوئی حتمی حل نہیں۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جواب دیا کہ انھیں حماس پر بھروسہ نہیں اور اس بات پر بھی یقین نہیں کہ حماس یرغمالیوں کے حوالے سے کسی معاہدے پر راضی ہونے کو تیار ہے یا معاہدے کی پاسداری کریں گے۔دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام تر توجہ غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں بالخصوص امریکی شہریوں کو نکالنے پر ہے۔#/s#


