پاکستان اور ایران کے درمیان علم ،ہنر ، تجربات کا تبادلہ کرنے کے وسیع مواقعے موجود ہیں

کوئٹہ(این این آئی)کلچرل اتاشے اور ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ سید ابوالحسن میری اور وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان علم ،ہنر ، تجربات کا تبادلہ کرنے کے وسیع مواقعے موجود ہیں ،خانہ فرہنگ اور بیوٹمز ملکر نینو ٹیکنالوجی ، بائیوٹیکنالوجی، فرکس، سوشل سائنسز سمیت دیگر شعبوں میں کام کرنے کے خواہاں ہیں۔یہ بات انہوں نے بدھ کو بیوٹمز میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ کلچرل اتاشے اور ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ سید ابوالحسن میری نے کہا کہ بلوچستان کی تین بڑی جامعات کے قیام میں ایران کا براہ راست یا بلاواسطہ کردار رہا ہے ایران سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے مستقبل قریب میں ایرا ن سائنس اور علم کا مرکز بننے جارہاہے جبکہ پاکستان کی جامعات بھی بہترین کام کر رہی ہیں دونوں ممالک کے درمیان تعلیم کے شعبے میں اشتراک کے بہترین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت سے بات کریں اور بیوٹمز کے ساتھ پرانے معاہدوں کی تجدید اور نئے معاہدوں پر دستخط کرنے کے لئے کردار ادا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستن اور ایران میں تعلیم کا فروغ ہماری ذمہ داری ہے اس شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا ۔ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ نے کہا کہ ایران نینو ٹیکنالوجی جبکہ پاکستا فرکس کے شعبے میں اپنی مہارت بروئے کار لائے تو دونوں ممالک آگے بڑھ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران کی حکومت بلوچستان کی جامعات کے ساتھ ملکر کام کرنے کی خواہاں ہے اور اس حوالے سے جلد ہی دونوں جانب سے خیالات اور منصوبوں کا تبادلہ بھی ہوگا جبکہ جلد ہی وائس چانسلران کا وفد بھی ایران جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حقیقی صلاحیتو ں کو آگے لانے کی ضرور ت ہے بیوٹمز میں فارسی کی کلاسیں ، قلیل المدتی شارٹ کوسز کی ابتداءاور ایران کارنر کی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی ایران کی طرز پر سائنس وٹیکنالوجی پارک بنائے جانے چاہیئں اس سلسلے میں ایران مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہے ہم بلوچستان کے طلباءکے لئے اسکالرشپ دینے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے کہا کہ بیوٹمز میںپاکستان اور ایران کے درمیان پائے جانے والے مشترکہ ثقافتی و اسلامی ورثے کے شعبے پر کام کرنا چاہتی ہے ، آج ہم بغداد، ثمرقند ، بخارا، نیشابہ کی جامعات کے معلموں کی تعلیمات کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں ہمیں انہیں آگے لانا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان پیٹرولیم و گیس، نینو ٹیکنالوجی ، سوشل سائنسز، فلم میکنگ کے شعبوں میں کام کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے بیوٹمز چاہتی ہے کہ دونوں ممالک کی جامعات کے طلباءو طالبات، استاتذہ کے لئے ایسے منصوبے شروع کئے جائیں جن سے ملکر کر علم حاصل کرنے ،ایکسچنج پروگرام ، ورکشاپ اور ٹریننگ منعقد ہوں ۔انہوں نے کہاکہ معاشرے میں تنقیدی سوچ سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی کام کرنے کے مواقع موجود ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بیوٹمز میں بولان ٹیکسٹائل مل کی مشینری سمیت جامعہ کے طلباءکی جانب سے بنائی گئی اشیاءاور موجود نودرات کے لئے سائنسی میوزیم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس کام کے لئے ایران کے تعاون کی بھی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں