مارشل لا کو راستہ اور فیصلہ دینے والے ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے، جسٹس اطہر من اللہ
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ میں پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مارشل لا کو راستہ دینے والے فیصلے ختم اور ایسے فیصلے دینے والے ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 4 رکنی لارجر بینچ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کی سماعت کی تو سینئر قانون دان حامد خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرے دلائل گزشتہ سماعت پر مکمل ہو چکے تھے، آج اپنی تحریری معروضات پر جواب جمع کروا رہا ہوں۔ رشید اے رضوی کے دلائل پر جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ رشید رضوی صاحب ماضی میں کب تک جائیں گے،کہ کیا کیا ہوا، مجھے چیف جسٹس کا احترام ہے مگر بالکل جائیں پھر اسی مشرف نے 12 اکتوبر کو بھی آئین توڑا اور اسمبلیاں توڑیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 12 اکتوبر کے اقدام کو اسی عدالت نے راستہ دیا، مشرف مارشل لا کو قانونی کہنے والے ججوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، کارروائی صرف 3 نومبر کے اقدام پر کیوں کی گئی، 3 نومبر کو صرف ججوں پر حملہ ہونے پر کارروائی ہو گی تو شفاف ٹرائل پر سوال اٹھے گا۔ وکیل کو مخاطب کرکے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کیا ججوں پر حملہ اسمبلیاں توڑنے اور آئین معطل کرنے سے زیادہ سنگین معاملہ تھا، رشید اے رضوی صاحب ہمیں سچ بولنا چاہیے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر کسی فیصلے کوختم ہونا ہے تو اسے ہونا چاہیے، جس نے مارشل لا کو راستہ دیا، ان ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جو ماضی میں ہو چکا اسے میں ختم نہیں کرسکتا، کیا جنوبی افریقہ میں سب کو سزا ہی دی گئی تھی، قوم بننا ہے تو ماضی کو دیکھ کر مستقبل کو ٹھیک کرنا ہے، سزا اور جزا اوپر بھی جائے گی، کئی بار قتل کے مجرمان بھی بچ نکلتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل آکر بتائیں آئین توڑنے والے ججوں کی تصویریں ہی یہاں کیوں لگی ہیں، جج ہی یہاں بیٹھ کر کیوں پوائنٹ آوٹ کریں، میڈیا بھی ذمہ دار ہے ان کا بھی احتساب ہوناچاہیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں کتنے صحافی مارشل لا کے حامی اور کتنے خلاف تھے، جس پر رشید اے رضوی نے کہا کہ میں ججوں کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی عدالت کے نوٹس میں لے آیا ہوں، پرویز مشرف کے اقدام کو جواز فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ بار کے وکیل رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہو گئے۔


