بالاچ کا ماورائے عدالت قتل، بلوچستان ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی مکران کے 4 اہلکاروں کو معطل کردیا

کوئٹہ( این این آئی) بلوچستان ہائی کورٹ نے تربت میں بالاچ بلوچ کے مبینہ حراستی قتل سے متعلق ایک درخواست کو نمٹاتے ہوئے سی ٹی ڈی مکران کے 4اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم دیا۔پیر کو بلو چستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس نذیر احمد لانگو پر مشتمل بینچ نے اس سلسلے میں درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔یہ درخواست حکومت کی جانب سے سیشن کورٹ تربت کی جانب سے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں پر مقدمے کے اندراج کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ہائی کورٹ کے فاضل بینچ نے کہا کہ فیصلہ سنائے جانے سے پہلے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ سیشن کورٹ کے حکم کے مطابق سی ٹی ڈی کے چار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سٹی پولیس سٹیشن تربت کے انسپکٹر نور بخش بلوچ کو انویسٹی گیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ نے کہا کہ بالاچ بلوچ کی گرفتاری، ہلاکت سے متعلق سی ٹی ڈی اور ان کے والد کی مدعیت میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کے خلاف درج تینوں ایف آئی آر کرائمز برانچ پولیس کے حوالے کی جائیں۔عدالت نے ڈی آئی جی کرائمز برانچ پولیس کو حکم دیا کہ وہ قانون کے مطابق ان ایف آئی آرز کی تحقیقات کے لیے سینیئر آفیسروں کی ٹیم تشکیل دیں۔ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے درخواست کو نمٹاتے ہوئے فیصلے کی نقول آئی جی پولیس بلوچستان اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو اس ہدایت کے ساتھ بھیجنے کا حکم دیا کہ منصافانہ تحقیقات کے لئے ریجنل آفیسر سی ٹی ڈی مکران عادل عامر، آئی او سی ٹی ڈی تربت عبداللہ، ایس ایچ او سی ٹی ڈی تربت عبدالاحد اور سی ٹی ڈی کے لاک اپ انچارج کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں