پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے والے نجی ٹھیکیدار مزدوروں کی لاکھوں روپے اجرت لے اڑے
کو ئٹہ:پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے والے نجی ٹھیکیدار مزدوروں کی لاکھوں روپے اجرت لے اڑے۔ متاثرہ مزدوروں نے دالبندین پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار کئی عرصے تک کام لیتے رہے اور تکمیل کے بعد فرار ہوئے اور اب کوئی ان کی فریاد سننے کو تیار نہیں جس کی وجہ سے وہ مجبور ہوکر اس معاملے کو میڈیا پر لارہے ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی اکبر، عنایت اللہ نوتیزئی، مہراللہ بنگلزئی، عبدالمالک اور محمد ابراہیم ساسولی کا کہنا تھا انہوں نے مشکل علاقے اور سخت موسم میں دن رات کام کیا مگر افسوس کہ فراڈیا ٹھیکیدار ان کی خون پسینے کا پیسہ لے کر فرار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مفرور ٹھیکیداروں پر ان کے پچاسی لاکھ روپے کی بقایا جات ہیں جب بھی وہ پیسے مانگتے تو ٹھیکیدار خالی چیک دے کر ٹرخاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکیداروں کے خلاف دالبندین لیویز تھانے میں مقدمہ بھی درج کرایا جس کے بعد دالبندین لیویز فورس نے ایک ٹھیکیدار کو تربت سے گرفتار کیا لیکن اب اس کو ضمانت پر رہائی دی جارہی ہے اگر ایسا ہوا تو ان کے پیسے کون دے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں پاک فوج کی متعلقہ حکام کو بھی تحریری شکایت کی ہے۔ متاثرہ مزدوروں نے آرمی چیف اور کمانڈر سدرن کمانڈ سے حق دلانے کا مطالبہ کیا۔


