بلوچستان، 3200 گھوسٹ سکولز کی موجودگی کا انکشاف

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 32 سو سکولوں کے گھوسٹ اور غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع قلعہ عبداللہ‘ ڈیرہ بگٹی‘ بارکھان‘ کوہلو‘ پشین سمیت دیگر اضلاع میں 32 سو سے زائد سرکاری سکولز کے گھوسٹ اور غیر فعال ہونے کا انکشاف ہوا ہے صوبائی سیکرٹری تعلیم ثانوی غلام علی بلوچ نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے صوبہ میں گھوسٹ سکولز کا پتہ لگانے اور غیر فعال سکولوں کو فعال بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے صوبہ میں سرکاری سطح پر پرائمری‘ مڈل اور ہائی سکولوں کی تعداد 13 ہزار کے لگ بھگ ہے صوبہ کے آئندہ مالی سال 2020-21ء میں تعلیم کے شعبہ کے لئے 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر فعال اور گھوسٹ سکول واقعتاً ایک بہت بڑا چیلنج ہے حکومت کی جانب سے ہر بجٹ میں سکولوں کو اپ گریڈ کیا جاتا ہے غلام علی بلوچ کے مطابق ایک ٹیچر ایک کمرے والے سکولز کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے اس حوالے سے رکن صوبائی اسمبلی سیداحسان شاہ نے غیر فعال اور گھوسٹ سکولوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بڑی رقم مختص کرنے کے باوجود ہزاروں سکولز غیر فعال اور بند ہیں جس کی بنیادی وجہ صوبہ میں اساتذہ کی تقرری میں تاخیر ہے 2015ء میں پانچ ہزار سے زائد اساتذہ کی تقرری کے بعد اب تک کوئی تقرری نہیں ہوئی ہے اگرچہ صوبہ میں اس وقت صوبہ میں درس و تدریسی اور غیر تدریسی 15 ہزار آسامیاں خالی ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد اکبر مینگل نے کہا کہ صوبائی حکومت کے دعوؤں کے باوجود اس وقت بڑی تعداد میں سکول بند اور غیر فعال ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں