کراچی کے اسپتالوں میں بلوچستان ہیلتھ کارڈ پر علاج معالجے سے معذرت، مریض پریشان

وندر(یو این اے)بلوچستان ہیلتھ کارڈ غیر موثر لسٹ میں شامل ہسپتالوں کا مریضوں کے علاج معالجے سے انکار بلوچستان ہیلتھ کارڈ پر علاج معالجے کیلئے ڈسٹرکٹ لسبیلہ/ حب سے آنے والے مریض کراچی کی پرائیویٹ ہسپتالوں میں در بدر ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار غلام محمد انگاریہ نے نمائندہ یو این اے سے کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ غیر موثر ہو چکا ہے ہیلتھ کارڈ لسٹ میں شامل پرائیویٹ ہسپتالوں نے مریضوں کے علاج معالجے سے انکار کردیا ہے انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ لسبیلہ / حب سے آنے والے مریضوں کے تیمارداروں نے بتایا کہ ہیلتھ کارڈ لسٹ میں شامل ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کی جان بچانے کیلے ذاتی خرچے پر علاج کرانے پر مجبور ہیں بلوچستان کے ڈسٹرکٹ لسبیلہ / حب سے علاج کی غرض سے آنے والے مریض کراچی میں در بدر ہوگے ہیں ناخواندہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کی معاونت کیلئے کسی سطح پر کوئی سہولت نظر نہیں آرہی ہے عوامی نماندوں کی چشم پوشی کی وجہ سے لسبیلہ / حب کے لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کی لسٹ میں 1200 ہسپتالیں شامل ہیں مرشد ہسپتال کراچی کے علاوہ باقی پرائیویٹ ہسپتالوں کا ہیلتھ کارڈ پر مریضوں کا علاج کرنے سے گریز اسٹیٹ لاف انشورنس کمپنی کی ہیلپ لان پر کمپلین پر بھی کوئی عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے نگراں وزیر اعلی بلوچستان، نگراں صوبائی وزیر صحت بلوچستان ہیلتھ کارڈ پر مریضوں کے علاج معالجے کو ممکن بنانے کیلئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں