جبری گمشدگیوں کیخلاف پرامن مظاہرین سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے، اے این پی
کوئٹہ/اسلام آباد (آن لائن)وامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وسنیٹر نوابزادہ عمر فاروق کاسی نے کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے اور پرامن احتجاج پر قدغن مارشل لا دور کی یاد دلاتا ہے جبری گمشدگیاں اور مسخ شدہ لاشیں کا ملنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے خواتین پر مشتمل تربت سے شروع کردہ لانگ مارچ کے شرکا سے امن وامان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھاحکومت اور ریاست اس طرح کے ناروا اقدامات اٹھا کر ملک کی جگ ہنسائی کا موجب بن رہا ہے عوامی نیشنل پارٹی ایوان بالا سمیت ہر فورم پر بنیادی انسانی حقوق اور پرامن احتجاج کیلئے بھر پور آواز اٹھائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ میں بلوچ خواتین کی لانگ مارچ کے شرکا سے بات چیت کے دوران کیا عوامی نیشنل پارٹی کے ایوان بالا میں رکن سنیٹر عمر فاروق کاسی نے گزشتہ روز اسلام آباد پریس کلب میں تربت سے آئے لانگ مارچ کے شرکا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور ریاست پر امن جمہوری احتجاج پر قدغن لگا کر بنیاد ی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئی پر امن احتجاج کا حق آئین دیتا ہے لیکن نگران حکمران غیر ضروری معاملات میں الجھ کر اصل مسائل سے چشم پوشی اختیارکر ہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ امر تکلیف دہ ہے کہ باعزت باپردہ خواتین اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں حکومت اور ریاست ان کے مطالبات کے حل کے بجائے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑے کررہے ہیں جو غیر دانشمندانہ عمل ہے انہوں لانگ مارچ کے شرکا کو یقین دلایا کہ وہ ایوان بالا سمیت ہر فورم پر ان کیلئے آوز اٹھائیں گے اس موقع پر وفد کے شرکا نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے ہر موڑ پر سیاسی واخلاقی حوصلہ افزائی کرنے پر ان کا شکریہ اداکیا۔


