کراچی میں لواحقین لانگ مارچ شرکاء سے اظہار یکجہتی کرنیوالوں کو اغوا کیا جارہا ہے، بی وائے سی

کراچی (پ ر) بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے ڈپٹی آرگنائزر اور ان کے ساتھ دیگر بہت سارے افراد کو کراچی صدر کے آرٹلری تھانے میں ایف آئی آر کی اور ان کے علاوہ بہت سارے ساتھیوں کو فون کال کرکے تھریٹ کیا جارہا ہے، ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو ریلیوں کا حصہ تھے۔ ریاست کو معلوم ہونا چاہیے کہ بلوچ سیاست نے اس سے بھی بدترین مظالم دیکھے ہیں، ایسے حربے تحریک کو مزید منظم کریں گے۔ جب یہ ظلم و جبر تحریک کا حصہ بنی تو اب ریاست کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور آئے دن بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر پاگل پن پر اتر آئی ہے۔ ان کو اس بات پر ایف آئی آر کی گئی کہ ان کی زیر سرپرستی میں ریاست خلاف نعرے بازی کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جب فقیر کالونی سے چند دوستوں نے ریلی نکال کر پریس کلب کا رخ کیا تو بطور ڈپٹی آرگنائزر لالا وہاب نے ان کی اس ریلی میں شرکت کی۔ مزدور اور انسانی حقوق کارکنوں کے خلاف دائر مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کردی گئی۔ ایف آئی آر ہونے والے افراد کے نام درج ذیل ہیں۔ عبدالوہاب بلوچ(بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی)، سعید بلوچ (پاکستان فشر فوک فورم)، الٰہی بخش بکک (جئے سندھ محاذ) اور ناصر منصور (نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان) کے خلاف دائر مقدمات میں جج سیشن کورٹ ساﺅتھ نے 29 دسمبر تک قبل از گرفتاری عبوری ضمانت کے احکامات جاری کر دیے۔ ان رہنماو¿ں اور دیگر 280 افراد کے خلاف اسلام آباد میں پولیس و انتظامیہ کی جانب سے بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی منظم کرنے پر مقدمات قائم کیے گیے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ اتنا سنگین ہونے کے بعد بھی ریاست اس کو سنجیدگی سے سلجھانے کی کوشش کرنے کے بجائے اپنے پرانے Tactics کو استعمال کررہی ہے اور ریلی میں شامل افراد کو خوف زدہ کر رہی ہے کہیں پر ایف آئی آر کی صورت میں تو کہیں پر ریلی کے دوران اپنے لوگ بھیج کر ریلی کے انتظامیہ کو بلا واسطہ اس بات کا احساس دلا رہی ہے کہ ہماری نگاہیں آپ کی ریلی پر ہیں، ہم ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے نعرے منتخب نعرے ہیں کہ تم مارو گے ہم نکلیں گے اگر یہ عمل اس ریاست کے آئین و قانون میں قابلِ قبول نہیں لیکن یہ بین الاقوامی آئین کے تحت ایک قانونی حق رکھتا ہے کہ آپ اپنے حقوق کے لئے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و جبر پر اظہارِ رائے کا بھرپور حق رکھتے ہیں۔ اسی آئین کے تحت ہمارے لوگ اپنے قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی ہے لیکن ریاست باز آنی کے لئے تیار نہیں، ریاست ہر ممکن کوشش کررہی ہے ہماری اس تحریک کو کاﺅنٹر کرنے کی جس کی چند مثالیں یہ ہیں کہ وہ اپنے لوگ ریلیوں میں بھیج کر ایسے نعرے لگانے کا ٹاسک دے رہی ہے اور پھر بعد میں ہمارے لوگوں کو ایف آئی آر کرکے خوف کی فضاءقائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان تمام عوامل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاست کسی طرح سے ہمارے معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنا نہیں چاہتی اور آئے دن پاگل پن کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں ہمارے دوستوں سے اطلاع ملی ہیں کہ ان کو کال کرکے تھریٹ کیا جا رہا اور ہم واضع کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے ان دوستوں کو جو کہ کراچی میں مختلف علاقوں میں بلوچ قوم کے ساتھ یکجہتی کے لئے ریلی کا انعقاد کررہے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ریاست کو جانب سے کوئی نقصان ہوا تو اس کا ذمہ دار صرف اور صرف ریاست ہوگا۔ گزشتہ دو دن پہلے کراچی کے علاقے ماڑی پور میں ہونے والے ریلی میں جو لوگ شامل تھے ان میں ایسے لوگ کثرت سے شامل تھے جو کہ ایجنسی کے بندے تھے جو INDIRECTLY ریلی کے منتظمین کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہے تھے اور ایک خوف کا ماحول بنائے ہوئے تھے اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ لوگوں کو اشتعال انگیز بنایا جائے جس میں ریاستی لوگ ہی شامل تھے جو ریلی میں بھیجے گئے تھے۔ اسی طرح اسی رات کو کراچی کے علاقے ہاکس بے سے نامعلوم افراد نے ایک شخص کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت سید شانی بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص گزشتہ روز ماڑی پور میں ہونے والے احتجاج میں شامل تھا جس کے بعد آج صبح نامعلوم افراد نے ان کو اغواءکرنے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا تھا اور صبح یہ اطلاع ملی کہ وہ ماری پور تھانے میں موجود ہیں۔ اسی طرح ریلیوں کے اندر خوف و ہراس پھیلاکر لوگوں کو خاموش کرانے کی ایک گندی سازش کی جا رہی ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ہمارے مطالبات کو سنا جائے وگرنہ ہم انتہائی سخت سیاسی رد عمل کرنے کا اعلان کریں گے اور اس طرح لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان کو خاموش نہیں کیا جا سکتا، لوگوں کے دلوں میں لاوا ابل رہا ہے اور جس طرح ہم پہلے اس بات کو بیان کر چکے ہیں کہ اس وقت ہمارا مرکز اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہمارے قابل احترام لیڈرز ہیں، وہ جو بھی احکامات دیں گے ان احکامات کو تمام شہروں میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی عملی جامہ پہنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں