انتخابی نشان کیس،الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرناکافی نہیں،کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان الاٹ کیے جانے سے متعلق پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت جاری ہے، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بنیادی سوال جمہوریت کا ہےپارٹی آئین پرمکمل عملدرآمدکانہیں، کم ازکم اتناتو نظرآئےکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرناکافی نہیں۔ کیا پی ٹی آئی کی حکومت میں الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ تھا جواب کسی کے ماتحت ہوگیا؟چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس محمد علی مظہر اورجسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سماعت صبح 10 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن درست قرارپائے تو انہیں بلے کے انتخابی نشان سمیت سب کچھ ملے گا۔چیف جسٹس نے اس حوالے سے ریمارکس دیے تھے کہ قانون کے مطابق پہلے قانونی انداز میں پارٹی الیکشن کروائیں،انتحابی نشان بعد کی بات ہے۔سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کر رہے ہیں، ہمارا ویک اینڈ برباد کرنے کا شکریہ۔آج سماعت کے آغاز پرپی ٹی آئی کے وکیل حامد علی خان اورعلی ظفرروسٹرم پرآگئے۔ علی ظفر نے کہا کہ درخواست میں ایک سے8 تک جوفریقین ہیں ان کی نمائندگی کررہاہوں،میری 5 گزارشات ہیں جن پر اپنےدلائل مرکوزرکھوں گا۔ الیکشن کمیشن کےپاس اختیارنہیں کہ وہ وہ انٹراپارٹی الیکشن کوکالعدم قراردے۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی نشان الاٹ کرنےکےآخری دن کاادراک ہے۔ کیل توبس دلائل دےکرنکل جاتے ہیں جبکہ عدالت پر ایک بوجھ فیصلہ لکھنے کا بھی ہے۔ ہمیں فیصلہ لکھنے کیلئے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 17 دوسیاسی جماعت بنانےکااختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل17دو کی تفصیلی تشریح کرچکی ہے۔ ایک انتخابی نشان کےساتھ الیکشن لڑناسیاسی جماعت کےحقوق میں شامل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی نشان الاٹ کرنےکےآخری دن کاادراک ہے۔ کیل توبس دلائل دےکرنکل جاتے ہیں جبکہ عدالت پر ایک بوجھ فیصلہ لکھنے کا بھی ہے۔ ہمیں فیصلہ لکھنے کیلئے بھی وقت درکار ہوتا ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 17 دوسیاسی جماعت بنانےکااختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل17دو کی تفصیلی تشریح کرچکی ہے۔ ایک انتخابی نشان کےساتھ الیکشن لڑناسیاسی جماعت کےحقوق میں شامل ہے۔الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 25 کےمطابق پی ٹی آئی سےامتیازی سلوک کیا۔ وہ آرٹیکل 17 دو کی خلاف ورزی کررہاہے۔ الیکشن کمیشن کورٹ آف لاءنہیں جوفیئرٹرائل دےسکے۔ پی ٹی آئی کےکسی ممبر نے انٹرا پارٹی انتخابات کوچیلنج نہیں کیا، اگرانتخابات چیلنج بھی ہوتےتویہ سول کورٹ کا معاملہ بنتا ہے۔ پی ٹی آئی ایک نجی سیاسی جماعت ہے۔الیکشن کمیشن کے پاس از خود نوٹس کا اختیارنہیں ۔بلے کا نشان چھین کربظاہربدنیتی کی گئی ہے۔علی طفر نے کہا کہ عدالت کے سامنے پی ٹی آئی کےآئین کاخلاصہ بھی رکھوں گاپی ٹی آئی نے 8 جون2022 کو پہلےانٹرا پارٹی انتخابات کرائے،سپریم کورٹ نےعام انتخابات 8 فروری کو کروانے کا کافیصلہ دیا اور انتخابات کی تاریخ آنےکےبعد20دن کاوقت تھا۔ پی ٹی آئی نے 2 دسمبر 2023 کوانٹراپارٹی انتخابات کرائےاور الیکشن کمیشن نے22 دسمبرکوپی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قراردیتے ہوئے انتخابی نشان واپس لے لیا۔پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں کوئی بے ضابطگی نہیں کی اور آئین کے مطابق الیکشن کروائے۔ خدشہ تھا پی ٹی آئی کوانتخابات سے باہرنہ کردیا جائے اس لیے20 روزمیں الیکشن کرایا۔ الیکشن کمیشن نےکہا انٹراپارٹی انتخابات ٹھیک تھے مگرسربراہان کی تعیناتی غلط ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگرپی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات درست تھے پھرتوانتخابی نشان بھی مل جائے گا،ہرسیاسی جماعت کے ممبران کو بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات میں ہرممبرکوالیکشن میں حصہ لینے کا موقع دیا؟اکبرایس بابرکا دعوی ہے کہ وہ پارٹی ممبرہیں اورانہیں الیکشن سے دوررکھا گیا۔جسٹس محمد علی مظہرنے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکشن ایکٹ کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کرائے؟ پی ٹی آئی لیول پلیئنگ کی بات کرتی ہے کیا اپنے ممبران کولیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کیا؟پی ٹی آئی نے اپنے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اکثرممبران کا شکوہ ہے کہ انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا، کیا کیا پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنرسمیت سیکرٹری کا انتخاب اپنے آئین کے مطابق کیا۔اس پر پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمشین میں انٹرا پارٹی انتخابات کیخلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا اور الیکشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکرنہیں کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بنیادی سوال جمہوریت کا ہےپارٹی آئین پرمکمل عملدرآمدکانہیں، کم ازکم اتناتو نظرآئےکہ انتخابات ہوئے ہیں،انتخابات جوبھی ہوں ہرکوئی ان سےخوش نہیں ہوتا۔ اکبرایس بابرنےاگراستعفیٰ دیایا دوسری پارٹی میں گئےوہ بھی دکھا دیں۔ سوشل میڈیایامیڈیاپرالیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرناکافی نہیں۔ کیا پی ٹی آئی کی حکومت میں الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ تھا جواب کسی کے ماتحت ہوگیا؟۔وکیل علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے،اس نے کارروائی از خود نہیں کی شکایات ملنےپرکی۔ الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی۔ تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا۔انتخابی نشان سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہوتا ہے.اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابی نشان کیاہوتاہےاچھے سے معلوم ہے، پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوارکا نشان لیا گیا، مسلم لیگ نےبھی ایسا ہی وقت دیکھا،اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھناہے۔ آج پی ٹی آئی کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نےانتخابی شیڈول اورمقام پرنشاندہی نہیں کی۔ بنیادی نکتہ الیکشن کمیشن کا اختیارہے،اگروہ ہی نہ ہواتوباقی چیزیں خود ختم ہوجائیں گی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہےکہ پارٹی میں الیکشن ہوا ہے یا نہیں،اکبرایس بابرکوالیکشن لڑنے دیتے سپورٹ نہ ہوتی توہارجاتے۔ پی ٹی آئی کےبانی جیل میں ٹرائل کاسامنا کررہے ہیں، اگر کل وہ باہرآکرکہہ دیں کہ یہ عہدیدارکون ہیں تو کی اہو گا؟ پی ٹی آئی کواپنےساڑھے8لاکھ ممبران پراعتماد کیوں نہیں ہے؟پی ٹ آئی وکیل نے کہا کہ جن ضابطگیوں کی بنیادپرنشان واپس لیااس کی نشاندہی کررہاہوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات باقاعدہ طریقہ کارسےکروائےہیں توانتخابی نشان ملناچاہئیے، انتخابات کی پیچیدگیوں میں نہجائیں۔ انٹراپارٹی انتخابات میں اراکین کویکساں موقع ملا یا نہیں؟ کاغذکاٹکرا دکھا کریہ نہیں کہاجاسکتا لوانتخابات کروا دیے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مروجہ طریقہ کارسےہوئے یانہیں۔ الیکشن کمیشن کامؤقف ہےپی ٹی آئی نےانٹراپارٹی الیکشن کرائےنہیں،14 افراد کوانٹراپارٹی انتخابات میں شرکت سےکیوں روکا۔اس پر علی ظفر نے جواب دیا کہ جن افراد کوشکایت تھی وہ سول کورٹ جاتے،وہاں جانےسے انتخابی نشان پرکوئی اثرنہیں ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کچھ دیرکیلئے انتخابی نشان کی بات چھوڑدیں،کیا پی ٹی آئی جمہوریت چاہتی ہے یا نہیں، پی ٹی آئی جمہوریت کےبجائےصرف سیاست کی بات کررہی ہے۔ الیکشن کمیشن کاایک ہی دکھڑا ہے کہ پی ٹی آئی پارٹی انتخابات کرا لے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دینے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ پی ٹی آٸی نے انٹر پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ کے تحت نہیں کروائے۔پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے، ہاٸیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔یاد رہے کہ بدھ 10 جنوری کو پشاورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان واپس دینے کا فیصلہ دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ ویب سائٹ پر بھی جاری کیا جائے۔پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت درخواست دائر کی جس پر ایک مرتبہ اس کے حق میں ایک مرتبہ خلاف فیصلہ آیا جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے تیسرے فیصلے میں انٹرا پارٹی الیکشن بحال کردیئے۔مذکورہ فیصلے کیخلاف اپیل اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں